اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 88
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 88 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن دکھایا گیا ہے ) اس قسم کے پردہ کو انگلستان کی عورتیں آسانی سے برداشت کر سکتی ہیں اور اس طرح پر سیر کرنے میں کچھ حرج نہیں آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔“ ریویو آف ریلیجنز جلد 4 ، جنوری 1905، صفحہ 17) تو آج کل جو برفقے کا رواج ہے، کوٹ کا اور نقاب کا ، اگر وہ صحیح طور پر ہو، ساتھ چپکا ہوا برقعہ یا کوٹ نہ ہوتو بڑا اچھا پر دہ ہے۔اس سے ہاتھ بھی کھلے رہتے ہیں ، آنکھیں بھی کھلی رہتی ہیں ، سانس بھی آتا رہتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاک دامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔یہی حال دینی امور کا ہے۔شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔خدا کو راضی کرے پھر کسی سے خوف نہ کھائے اور نہ کسی کی پروا کرے۔ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہو جاوے۔مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہوسکتا۔صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29) انسان نا تواں ہے۔غلطیوں سے پر ہے۔مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے۔( ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 543) اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین