اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 72
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 72 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔یقیناً اللہ، جو وہ کرتے ہیں، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے از خود ظاہر ہو۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی ( جنسی ) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر ) وہ ظاہر کر دیا جائے جو ( عورتیں عموماً اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ان آیات سے، جو میں نے تلاوت کی ہیں، سب کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کس چیز کے بارہ میں میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس مضمون کو خلاصہ دو تین مرتبہ پہلے بھی مختلف اوقات میں بیان کر چکا ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کو کھولنے کی مزید ضرورت ہے۔کیونکہ بعض خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی بھی بہت سے ایسے ہیں جو اس حکم کی اہمیت کو یعنی پردے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔کوئی کہہ دیتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے کیا صرف پردہ ہی ضروری ہے؟ کیا اسلام کی ترقی کا انحصار صرف پردہ پر ہی ہے؟ کئی لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ فرسودہ باتیں ہیں، پرانی باتیں ہیں اور ان میں نہیں پڑنا چاہئے، زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے۔گو جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت معمولی ہے لیکن زمانے کی رو میں بہنے کے خوف سے دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور اس معمولی چیز کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ایسے لوگوں کو میرا ایک جواب یہ ہے کہ جس کام کو کرنے یا نہ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور اس کامل اور مکمل کتاب میں اس بارہ میں احکام آگئے ہیں اور جن اوامر و نواہی کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتا چکے ہیں کہ یہ صیح اسلامی تعلیم ہے تو اب اسلام اور احمدیت کی ترقی