اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 38

الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 38 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب ہو جائے۔اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعودؓ فرماتے ہیں۔آپ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں کہ: ”یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔نہیں نہیں۔ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: خَيْرُ كُم خَيْرُ كُمْ لا فلہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں ! دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدو کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصہ سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اُس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مرگئی ہے۔اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ“۔(النساء:20) اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن سے اچھی طرح حسن سلوک سے پیش آؤ۔”ہاں اگر وہ بیجا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔انسان کو چاہئے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا۔اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اُس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کرسکتا۔خاوند عورت کے لئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔پس مرد میں جلالی اور جمالی رنگ دونوں موجود ہونے چاہئیں“۔( ملفوظات جلداول، جدید ایڈیشن ، صفحہ 403-404)