اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 361
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 361 جلسہ سالانہ قادیان 2005 مستورات سے خطاب ہے، اسی سے مانگنا ہے اور اسی پر توکل کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ ایسی عورتیں کامیاب ہوں گی اور اس کے ساتھ اس بات کی بھی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ احمدیت کی نئی نسلیں نیکیوں میں سبقت لے جانے والی اور اپنے خدا پر ایمان لانے والی ہوں گی ، ان باتوں پر عمل کرنے والی ہوں گی جن کا خدا اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، اس تعلیم پر چلنے والی ہوں گی جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں بتائی ہے۔خدا کرے کہ آپ میں سے ہر ایک اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے والی ہو اور آپ یہ خاص دن جو آپ کو میسر آئے ہیں، ان دنوں میں دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتی رہیں۔معاشرہ میں رہتے ہوئے ہر وقت جائزہ لیتی رہیں کہ ماحول کے کیا اثرات مترتب ہو رہے ہیں اپنے جائزے لیتی رہیں کہ کس حد تک آپ کو خدا کی وحدانیت پر یقین ہے؟ کہاں تک آپ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرنے والی ہیں؟ کہاں تک آپ کے ایمان میں ، آپ کے دل میں یہ بات راسخ ہے کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں، جو بھی ہم پر گزر جائے ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس پر تو کل کرتے چلے جانا ہے۔آج کل ہم اپنے ماحول میں ہر طرف دیکھتے ہیں کہ دنیا خدا کو بھلا بیٹھی ہے۔مذہب کی طرف بہت کم توجہ ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے اور اس معاشرے میں رہنے کی وجہ سے قدرتی طور پر احمدی بھی کچھ نہ کچھ متاثر ہو جاتے ہیں۔اس لئے میں نے کہا کہ ہر وقت یہ جائزے لیتے رہنے ہوں گے تا کہ اگر کبھی بھی کوئی خدانخواستہ اس ماحول سے متاثر ہورہا ہو تو اس کو اپنی اصلاح کا موقع مل سکے۔اپنی ملاقاتوں کے دوران جو لوگ میرے سے ملتے ہیں میں جائزے لیتا رہتا ہوں۔بعض دفعہ ان جائزوں سے اور بعض رپورٹس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ جس طرح ایک احمدی کو عبادت گزار ہونا چاہیے اور جس طرح ایک احمدی کو خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل اور مکمل تو کل ہونا چاہیے وہ معیار کم ہو رہے ہیں۔ترقی کرنے والی قو میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ نہیں کہا کرتیں کہ شائد یتی بھی ہمیں نہیں دیکھ رہی بلکہ ہمیں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی چاہیے تا کہ اصلاح کا موقعہ ملے۔اس سے