اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 332

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 332 خطبه جمعه فرمودہ 23 ستمبر 2005 (اقتباس) ایک خاتون کا خلافت رابعہ کی تحریکات میں بہت ساز یور پیش کر دینا ایک خاتون نے اپنا بہت ساز یور خلافت رابعہ کی مختلف تحریکات میں دے دیا تھا۔میری طرف سے بھی جب بعض تحریکات ہوئیں تو پھر کچھ زیورات جو باقی بچے ہوئے تھے وہ دے دیئے تھے۔پھر ان کو کچھ زیورات تحفہ ملے یا دوبارہ بنائے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دیئے۔اسی طرح مردوں میں سے بھی بہت قربانیاں کرنے والے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی توفیق سے بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔تو قربانی کے یہ معیار آج اللہ تعالیٰ نے صرف جماعت احمدیہ میں ہی قائم فرمائے ہوئے ہیں۔اور صرف یہی نہیں ہے کہ کسی پاکستانی یا ہندوستانی کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ باپ دادا صحابی تھے اس لئے ہماری نسلوں میں بھی قربانی کے وہ معیار چل رہے ہیں۔بلکہ دنیا کے ہر ملک میں، ہر قوم میں، قربانی کی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔افریقہ میں وہاں کے غریب لوگ بھی آج اپنی مرغیاں یا مرغیوں کے انڈے یا ایک آدھ بکری جوان کے پاس ہوتی ہے وہ لے کر آتے ہیں کہ پیسے تو نقد ہمارے پاس ہیں نہیں، یہ ہمارے چندے میں کاٹ لیں۔پھر افریقنوں میں ایسے خوشحال مرد اور عورتیں بھی ہیں جنہوں نے بڑی بڑی مالی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں۔مسجدوں کے لئے پلاٹ خریدے۔مسجدیں بنائیں اور کافی بڑی رقم سے بڑی بڑی مسجدیں بنائیں۔ابھی اسی سال افریقہ کے ایک ملک میں ایک عورت نے ایک بڑی خوبصورت مسجد بنا کر جماعت کو پیش کی ہے۔تو یہ انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد ان لوگوں میں آیا ہے۔“