اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 294
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 294 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب دولت، امارت، اپنی اولاد، اپنے خاندان پر فخر کرنا ، سب تکبر کی قسمیں ہیں پس ان تلاوت کی ہوئی آیات میں سے دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی مغفرت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔اس دوڑ میں آپ سب شامل ہوں اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کی وارث بنیں۔یہ دنیا نیک اعمال کر کے ہی ملتی ہے، پاک زندگیاں بنانے سے ہی ملتی ہے۔استغفار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے سے ملتی ہے۔اپنی نسلوں کی پاک تربیت کرنے سے ملتی ہے، اپنے معاشرے کے حقوق ادا کرنے سے ملتی ہے۔پس اللہ کے اس فضل کو سمیٹیں۔ایک دوسرے سے بڑھ کر اس فضل کو سمیٹنے والی نہیں ، نہ کہ اپنی دولت، اپنی امارت، اپنی اولاد، اپنے خاندان پر فخر کرنے والی ہوں کیونکہ یہ سب تکبر کی قسمیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح فرما دیا ہے کہ میں تکبر کرنے والے اور بڑھ بڑھ کر اپنی دنیاوی چیزوں پر فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ساس بہوا ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں کسی پر ظلم نہ ہونے دیں ان عورتوں کو بھی آج یہ عہد کرنا چاہئے جو اپنے لڑکوں کے ذریعہ سے اپنی بہوؤں پر ظلم کرواتی ہیں اور ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔یہ زندگی چند روزہ ہے اس میں تقوی پہ چلتے ہوئے بجائے اس کے کہ اس زندگی کو جنت بنا ئیں اپنے لئے بھی اور اپنے بیٹوں کے لئے بھی اور ان کی اولاد کے لئے بھی ان لغویات میں پڑ کر کہ بیٹا ہا تھ سے نہ چلا جائے سب کی زندگی جہنم بنارہی ہوتی ہیں۔اسی طرح بعض بہوئیں ہیں، اپنے خاوندوں کے ذریعہ سے اپنی ساسوں کے حقوق تلف کر رہی ہوتی ہیں۔پس خدا کے لئے خدا کا خوف دل میں قائم کرتے ہوئے اپنے دلوں کے تکبر کو ختم کریں اور اپنے آپ کو تقوی کے لباس سے مزین کریں۔اپنی اولادوں پر بھی رحم کریں اور ان کی نسلوں پر بھی رحم کریں۔اگر ماؤں کو یہ خیال ہے کہ یہ ہمارے بیٹے ہیں اس لئے ہم جس طرح چاہیں ان کے ذریعہ سے اپنی بہوؤں پر ظلم کروالیں تو پھر آپ ان ماؤں میں شمار نہیں ہوسکتیں جن کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔کیونکہ آپ نے وہ تعلیم آگے پھیلائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہے۔یہ جاگ آپ نے لگائی ہے۔جو ہوسکتا ہے کہ آگے آپ کی بہوؤں اور بیٹیوں میں بھی چلے اور بیٹوں میں بھی چلے۔جب ان کو موقعہ ملے گا وہ بھی یہی سلوک اپنے بچوں سے کریں گے، اپنی بہوؤں سے کریں