اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 279

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 279 خطبه جمعه فرمودہ 8 جولائی 2005 (اقتباس) مالی قربانیاں زندہ رکھنے کے تقاضے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: وو برمنگھم میں گزشتہ سال ایک خوبصورت مسجد بنی۔وہاں کی جماعت نے بھی اپنے شہر میں مسجد بنا کر ایک خوبصورت اضافہ کیا۔پھر جب میں نے ہارٹلے پول اور بریڈ فورڈ کی مسجد کے لئے تحریک کی تو پھر یو۔کے کی جماعت نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔انصار اللہ نے بھی لجنہ نے بھی اور دوسری جماعت کے افراد نے بھی۔تو یہ جو ہر جگہ غیر معمولی قربانی کے نظارے ہمیں یہاں بھی نظر آتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ سے پیارا اور اس کی رضا حاصل کرنے کی طرف قدم ہی ہیں نا۔اعلیٰ نیکی حاصل کرنے کا قرآنی معیار پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے تو اپنی پسندیدہ چیزیں، اپنی محبوب چیزیں خرچ کرو۔تبھی پتہ چلے گا کہ واقعی تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کر رہے ہو کہ نہیں۔ورنہ تو یہ تمہارے دعوے ہوں گے کہ ہم نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے والے ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔(آل عمران: 93) یعنی تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا کے لئے خرچ نہ کرو۔تو یہاں اس حکم میں بھی جماعت نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔اور اس حکم کے