اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 214
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 214 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) آ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنَ (الذاريات:57)۔جواس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لئے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حلم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھاوے تو اسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔اس لئے دل کا رجوع تام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔( ملفوظات جلد 4 ، جدید ایڈیشن ، صفحہ 221-222) یعنی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف دل لگا رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شیطانی وسوسوں اور خیالات سے بچا کر ر کھے۔ہمارے دلوں میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کا کہہ کر ہمیں کسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔بلکہ ہم بھی اپنے آقاومتاع کی پیروی میں اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک نمازوں اور عبادتوں میں تلاش کرنے والے ہوں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔