اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 183
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 183 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004ء لجنہ سے خطاب میں ہو۔مذاق تو اس وقت اڑے گا جب تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہوگی۔کیونکہ جب برقعہ اترتا ہے پھر اور جرات پیدا ہوتی ہے تو جین اور قمیص پہننا شروع کر دیتی ہیں۔تجربے میں آئی ہیں جو باتیں وہ بیان کر رہا ہوں۔اور جین اور قمیص بھی ایسی جو کافی چست ہوں جسم کے ساتھ چمٹی ہوتی ہیں۔پھر جین کے ساتھ کہتی ہیں کہ دوپٹے اور سکارف کا جوڑ نہیں ہے، حجاب کا جوڑ نہیں ہے اسے بھی اتار دو۔جب سرنگا ہوتا ہے تو پھر اور جرات پیدا ہوتی ہے اور پھر جین کے ساتھ لمبی قمیص کی جگہ چھوٹی قمیص لے لیتی ہے۔پھر اور جرات ہوئی تو بلاؤز نے لے لی جس سے جسم کا ننگ بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔اور جب یہاں تک پہنچ گئیں تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو پھر گمراہی ہے، گمراہی میں گر جاتی ہیں۔پھر والدین روتے ہیں کہ ہماری بچیاں ہمارے قابو میں نہیں ہیں۔تو جب قابو میں کرنے کا وقت تھا اس وقت تو قابو نہیں کیا گیا۔دعوت الی اللہ کے لئے اپنا نمونہ دکھانا بھی ضروری ہے یہ پردہ تو قرآن کا بنیادی حکم ہے۔مختلف قوموں نے یعنی مسلمان ملکوں کی قو میں جو ہیں انہوں نے اس کے مختلف طریقے اپنی سہولت کے لئے بنائے ہوئے ہیں۔حضرت مصلح موعود کہا کرتے تھے کہ ترکی عورت کا پردہ سب سے اچھا ہے۔برقعہ اور نقاب۔اس میں عورت محفوظ بھی رہتی ہے کام بھی کر سکتی ہے۔آزادی سے پھر بھی سکتی ہے اور پردے کا پردہ ہوتا ہے۔ایک مبلغ نے مجھے بتایا وہ ترکوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔کہتے ہیں جب میں تبلیغ کرتا ہوں تو ترک کہتے ہیں کہ ہم کونسا اسلام قبول کریں۔تم ہمیں صحیح اسلام کی دعوت دے رہے ہو وہ اسلام قبول کریں یا جو تمہاری عورتیں ظاہر کرتی ہیں۔اسلام میں تو حکم ہے کہ پردہ کرو اور پردہ نہیں کر رہی ہوتیں۔کئی عورتیں ہماری واقف ہیں جو پردہ نہیں کرتیں۔ایک دفعہ میں نے کہا تھا کہ دعوت الی اللہ کے لئے اپنا نمونہ دکھانا بھی ضروری ہے اور یہ اپنا نمونہ تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔تو دیکھیں آپ کے نمونہ کی وجہ سے یہ جو مثال سامنے آئی ہے دوسروں کو اعتراض کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔اس سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پر عمل نہ کر کے ایسی عورتیں اس حکم عدولی کی وجہ سے گناہگار ہو رہی ہیں بلکہ اس نمونے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کے لئے ٹھوکر کا