اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 158

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 158 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب پھر یہ بھی نصیحت ہے کہ اگر تم اس طرح بیچ پر قائم رہو گے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرتے رہو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری ان کوششوں کے نتیجہ میں تمہاری اصلاح کرتا رہے گا۔تمہیں نیکیوں پر چلنے کی توفیق دیتا رہے گا۔تمہارے گناہوں سے، تمہاری غلطیوں سے ،صرف نظر کرتے ہوئے تمہارے گھروں کو جنت نظیر بنا دے گا۔اور یا درکھو کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرنے سے ہی تمہیں فوز عظیم یا بڑی کامیابی عطا ہوگی۔اور بڑی کامیابی کیا ہے؟ ہر کوئی یہ چاہتا ہے، ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بڑی کامیابی حاصل کرے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنتوں کو حاصل کرنا۔اور یاد رکھو یہ کامیابیاں اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کا حصول اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اپنے اعمال پر نظر نہ ہو۔حقوق اللہ بھی ادا کرو اور حقوق العباد بھی ادا کرو۔جب تک دونوں حقوق ادا نہیں ہو رہے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی۔جیسا کہ میں نے کل کے خطبے میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے جو درجے ہیں تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے ، اللہ کا خوف اور اس کی خشیت کو دل میں قائم کرتے ہوئے ، ان میں سے ہر ایک پر قدم رکھنا ضروری ہے۔ان میں سے ہر ایک پر قدم رکھنا ہو گا۔ہر حکم کو بجالا نا ہوگا۔تب ہی فلاح بھی حاصل کرو گے اور جنتوں کے بھی وارث ٹھہرو گے۔اور وہ حکم ہیں ( کل میں نے گن کر بتائے تھے )۔پہلا یہ ہے کہ اپنی نمازوں کو خشوع و خضوع سے، عاجزی سے ادا کرو۔اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو تو یہ سوچ کر کہ خدا میرے سامنے ہے پھر اس سے مانگو۔اپنے لئے بھی مانگو، اپنے خاوندوں کے لئے بھی مانگو، اپنی اولاد کے لئے بھی مانگو کہ اے اللہ تو ہی ہمیں نیکیوں پر قائم رکھنے والا ہے۔تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیری عبادات بجالا سکیں۔اے اللہ ہمیں، ہماری اولا د اور ہمارے خاوندوں کو ان نیکیوں پر قائم کر۔اور نماز کے بارے میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتو عاجزی دکھاتے ہوئے۔یہ عاجزی اس وقت پیدا ہوگی جب یہ احساس ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں۔اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں۔حدیث میں ہے کہ اگر یہ نہیں ، یہ احساس نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں یا اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو کم از کم یہ احساس ضرور ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔تبھی عاجزی بھی پیدا ہوتی ہے۔اور عبادات میں بھی توجہ تبھی قائم رہے گی جب مختلف قسم کی جو لغویات اور فضول باتیں ہیں ان سے بچیں گی۔اس کے لئے کوشش بھی کریں اور نمازوں میں بھی دعا کریں کہ