اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 131
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 131 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب عورت پر سختی ہے۔حالانکہ وہ باتیں عورت کے عزت و احترام کے قائم کرنے کے لئے اور عورت کی گھر یلو اور ذاتی زندگی اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہوتی ہیں۔اسلام اور عورتوں کے حقوق کی حفاظت یہاں کے لوگ جو اس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس معاشرے کی وجہ سے ان لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔خاص طور پر عورتیں سمجھتی ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت ایک کم درجے کے شہری کی ہے اور اصل مقام جو ہے وہ صرف مرد کو دیا گیا ہے۔حالانکہ یہ غلط پروپیگنڈہ ہے جو اسلام دشمنوں نے اسلام کے خلاف کیا ہے اور اس پرو پیگنڈے سے متاثر ہو کر ایسی عورتیں جن کو قرآن کریم یا دین کی صحیح تعلیم کا علم نہیں اور انہوں نے اس کا صحیح مطالعہ نہیں کیا، وہ ان کی باتوں میں آجاتی ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل بعض دفعہ متاثر ہو جاتی ہے۔اس لئے میں نوجوان نسل سے کہتا ہوں کہ یہ دجال کی ایک چال ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمان عورتوں کو ان کا ہمدرد بن کر اسلام سے اتنا دور لے جاؤ کہ اسلام کی آئندہ نسل اُن سوچوں کی حامل ہو جائے جو اسلام کی تعلیم سے دور لے جانے والی ہیں اور اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کر لے۔احمدی عورت کو ہمیشہ ان سوچوں سے بچنا چاہئے اور دنیا کو بتا دینا چاہئے کہ تم جو کہ رہے ہو غلط ہے۔اسلام نے عورت کو جو تحفظ دیا ہے اور کوئی مذہب اتنا تحفظ نہیں دیتا۔اور ہمیں اس زمانے میں جس طرح کھول کر حضرت اقدس مسیح موعود نے بتا دیا ہے اس کے بعد تو ممکن ہی نہیں کہ ایک احمدی عورت کسی دجالی چال یا کسی فتنے میں آئے۔حضرت مسیح موعود د فر ماتے ہیں کہ : عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعا نہیں کی۔مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے (البقرہ:229) وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں، حقارت کی