اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 130
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 130 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب اسلام اور حقوق نسواں تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اسلام کی تعلیم میں جہاں ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی احکامات موجود ہیں اور معاشرتی گھر یلو یا ذاتی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں ہمیں بتا نہ دیا گیا ہو اور قرآن کریم کی جن باتوں کی وضاحت ضروری تھی وہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل اور ارشادات سے سمجھا دی اور اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں بتایا جو بظاہر چھوٹی ہیں لیکن انسانی زندگی کے اخلاق اور صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اتنی باریکی سے ذاتی زندگی میں جا کر احکامات دیئے گئے ہیں کہ اسلام کے مخالفین کو اگر کوئی اور اعتراض نہیں ملا تو یہی کہ دیا کہ یہ کیسا مذ ہب ہے، یہ کیسا رسول ہے؟، کہ ایسی باتوں کا بھی حکم دیتا ہے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔جو گھریلو یا ذاتی نوعیت کی باتیں ہیں۔لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہی باتیں ہیں جو اخلاق اور مذہب پر اثر انداز ہوتی ہیں۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جس طرح باقی معاملات میں اور مختلف احکامات دیئے ہیں اس میں عورت کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا ہے، اس میں عورت کے فرائض کا بھی ذکر فرمایا ہے، اختیارات کا ذکر فرمایا ہے، ذمہ داریوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔اور بعض اوقات ہمیں پتہ نہیں لگتا اور قرآن کریم کو غور سے نہ پڑھنے کی وجہ سے پتہ نہیں لگتا یا یہاں اس معاشرے میں رہنے کی وجہ سے ہم متاثر ہو جاتے ہیں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں اور بظاہر یوں لگ رہا ہوتا ہے کہ