اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 104

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 104 جلسہ سالانہ ہالینڈ 2004 مستورات سے خطاب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے اس تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے میں اور جلد از جلد تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے میں ہم سبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب احمدی عورت اپنی ذمہ داری کو سمجھے، اپنے مقام کو سمجھ لے اور اپنے فرائض کو سمجھ لے اور اس کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے۔نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ماؤں پر عائد ہوتی ہے وہ ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس کے بارے میں میں مختصراً کچھ کہوں گا۔پہلی بات تو یہی ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ماؤں پر ہوتی ہے بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب بچے کی پیدائش کی امید ہو تو اگر اس وقت سے ہی ما ئیں دعائیں شروع کر دیں اور ایک تڑپ کے ساتھ دعائیں شروع کر دیں تو پھر وہ دعائیں اس بچے کی تمام زندگی تک، جوانی سے لے کر بڑھاپے تک اس کا ساتھ دیتی ہیں۔اور جب ایسی تڑپ کے ساتھ مائیں بچوں کے لئے دعائیں کر رہی ہوں گی ان کی پیدائش سے پہلے ہی قرآنی حکم کے مطابق یہ دعا کر رہی ہوں گی کہ بچہ نیک ہو، صالح ہو اور خدا کے نام کی سربلندی کے لئے کوشاں رہنے والا ہو، اس کا عبادت گزار ہو، اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو تو وہ مائیں خود ایک احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے عمل کو بھی درست کر رہی ہوں گی۔ان کو علم ہو گا کہ اگر ہم صرف دعا ئیں کر رہی ہیں اور عمل نہیں کر رہیں تو نہ وہ دعائیں مقبول ہیں، نہ ان دعاؤں کا کوئی اثر بچوں پر ہونا ہے نہ اس تربیت کا کوئی اثر بچوں پر ہونا ہے۔ان کو یہ بھی احساس ہوگا کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو دنیا کی غلاظتوں سے بچانا ہے۔ہم نے یہ نگرانی رکھنی ہے کہ ہمارے بچے دنیا کی غلاظتوں کی دلدل میں پھنس نہ جائیں۔ہمیں اپنے قول و فعل کو بھی ہر قسم کے تضاد سے بچانا ہے تا کہ صحیح طور پر تربیت ہو سکے۔ہمیں بھی، بچے کی پیدائش کے بعد اب دعاؤں سے رک نہیں جانا بلکہ مستقلاً اپنے بچوں کی بھلائی اور تربیت کی خاطر اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت کرنی ہے اور اس طرح عبادت کرنی ہے جیسے عبادت کرنے کا حق ہے۔اپنے اعمال بھی اس طرح ڈھالنے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔جب اس طرح بچوں کی تربیت ہو رہی ہوگی تو وہ کبھی تباہی کی طرف جانے والے نہیں ہوں گے۔وہ نمازوں کی طرف بھی توجہ دینے