اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 75
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۷۵ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء عمدہ رنگ میں سمجھوتے سے طے ہو گیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس قسم کے جہاں اقتصادی قوانین پائے جاتے ہوں کہ عورت پر دو ہرے بوجھ ڈال دیئے گئے ہوں گھر کی کمائی کا بھی اور بیرونی کمائی کا بھی اور تمام اقتصادی ذمہ داریوں میں اُس کو شریک کیا جارہا ہو تو اُن کو یہ آیت نہیں سمجھ آئے گی کیونکہ اس میں تو ایک ایسے اقتصادی نظام کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس میں عورت کلیتہ بری الذمہ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے اقتصادی نظام میں عورت اگر کمانا چاہے تو اس کو اجازت ہے لیکن خاوند کا یہ حق نہیں کہ اس کے کمائے ہوئے مال کو لالچ کی نظر سے دیکھے اس سے کوئی مطالبہ کرے۔اگر وہ سارے کا سارا اپنا کمایا ہوار و پیدا پنی مرضی سے الگ رکھتی ہے اپنے ماں باپ کو دیتی ہے، اپنے بھائیوں پر خرچ کرتی ہے، جماعت کو دے دیتی ہے ہر گز قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے مرد کا یہ حق نہیں کہ وہ اعتراض کر سکے کہ تمہاری کمائی کہاں گئی۔اس کے باوجود مرد کا فرض رہتا ہے کہ وہ عورت کی ذمہ داریاں بھی اُٹھائے اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی اُٹھائے۔اس پہلو سے جو فضیلت دی گئی ہے اس فضیلت کے ساتھ ذمہ داریاں تو بہت ہی زیادہ ہیں۔اگر یہ فضیلت عورتوں کو چاہئے تو بے شک لے لیں اور کوئی دنیا میں مرد اعتراض نہیں کرے گا کہ تم گھر کی چلانے کی ساری ذمہ داریاں، اقتصادی ذمہ داریاں اٹھا لو ہمیں آزاد کر دو اور ہم کہیں گے تم افضل ہوگئی۔افضل تو وہ ہو جائیں گے پھر وہ واقعتہ ہو جاتی ہیں ایک پہلو سے اور عملاً ہم نے روز مرہ کی زندگی میں دیکھا ہے۔ایک گزشتہ سال جو قافلے آئے تھے پاکستان سے اُن میں ایک ایسی خاتون بھی تھیں جن کے خاوند ان سے پیسے مانگ کے خرچ کرتے تھے اور ان کی حالت قابل رحم تھی بیچاروں کی۔پیچھے پیچھے پھرتے تھے اور جب تک وہ بیوی کو راضی نہ کر لیں وہ ان کو خوشی سے کچھ رقم دے نہ دے ان کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا کرایہ تک نہیں ہوتا تھا۔تو قرآن کریم سچ فرماتا ہے کہ جس کے اوپر رزق کی ذمہ داری ہوگی اسے طوعی اور طبعی طور پر ایک فضیلت حاصل ہو جائے گی۔یہ ایک واقعاتی اظہار ہے۔اس پر کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش ہی کوئی موجود نہیں۔اس کے بعد اگلے مضمون سے قبل ایک تھوڑا سا ٹکڑا آیت کا ایسا ہے جو بظاہر بات شروع کر کے نامکمل چھوڑ دیا گیا ہے۔فرمایا فَالصَّلِحُتُ قُنِتُتُ حفظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ الله پس وہ نیک اعمال والی بیبیاں جو فرمانبردار بھی ہیں اور غیب میں حفاظت کرنے والی ہیں ان