اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 700
حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات تاکید کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا : فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عران لا يَمْلِكُنَ لَا نُفُسِهِنَّ شَيئًا خطاب ۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء عورتیں تمہارے پاس قیدی کی طرح ہیں اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتیں اس لئے تمہارا فرض ہے کہ ان کا خود خیال رکھو اور ان کی ضروریات اور حاجات کو پورا کرو اور حسن معاشرت کا رویہ پیش نظر رکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں سے کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نا مرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه : ۳۸۷) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ جب آپ اپنی بیویوں کے پاس تشریف لاتے تو آپ کا ان کے ساتھ برتاؤ یہ ہوتا کہ سب سے زیادہ نرم، سب سے زیادہ کریم ، خوب ہنسنے والے اور تبسم فرمانے والے ہوتے تھے۔گھر کے بہت سے کام جو عورتوں کے ہوتے ہیں خود اپنے ہاتھ مبارک سے ان کاموں کو سرانجام دیتے تھے۔مثلاً آٹا گوندھ رہی ہیں پانی لا کر دے دیا۔کبھی چولہے میں لکڑیاں ڈال دیں۔غرض بیویوں کے ساتھ بلا تکلف گھر کے کام میں ان کی مددفرماتے تھے۔بلا تکلف باتیں فرماتے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا خَيْرُ كُمُ كُم لِاهلِه تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۰۰) انسان کی بیوی ایک مسکین ہے اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالے کر دیا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ ہر ایک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔نرمی برتنی چاہئے اور ہر ایک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان