اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 699
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۹۹ مہ خطاب ۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء بہترین پیسہ جو انسان خرچ کرتا ہے وہ ہے جو وہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے۔(مسلم کتاب الزكوة باب فضل النفقة على العيال والملوک) ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَاغِبُتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِي مَالِكَ وَنَفْسِهَا ( بیہقی ) جب تم اس سے غائب ہو تو تمہارے مال میں اور اپنے نفس میں تمہارے لئے حفاظت کرے اور وہ ضرورتیں جو پردہ غیب میں ہیں ان کا خیال کر کے اخراجات پر کنٹرول رکھے۔ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ کہ بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِحْمَلُوا النِّسَاءَ عَلَى أَهْوَائِهِنَّ کہ عورتوں کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو اور انہیں پورا کرنے کا خیال رکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت اپنے خاوند کے مال سے کوئی چیز خاوند کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے اگر ایسا کرے گی تو اس کا اجر اس کے خاوند کو ملے گا اور گناہ عورت پر ہوگا اور یہ کہ خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے نہ نکلے۔حضرت معاویہ بن حیدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! بیوی کا حق خاوند پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ! جو تو کھاتا ہے اس کو بھی کھلا اور جو تو پہنتا ہے اس کو بھی پہنا اس کے چہرے پر نہ مار اور نہ اس کو بدصورت بنا اور اگر تجھے کسی ( غلطی کی وجہ سے ) اس سے الگ رہنا پڑے تو گھر میں ہی ایسا کر یعنی گھر سے اسے نہ نکال۔( ابوداؤ د کتاب النکاح باب حق المرأة على زوجها ) حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی