اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 675
حضرت خلیفہ آج الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۷۵ السلام نے عورتوں کے بارہ میں فرمایا: خطاب ۲۶ را گست ۲۰۰۰ء مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہوسکتی ہے ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔عورت تو در کنار اور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی بات مانتا ہے۔اگر مرد کوئی کبھی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے۔اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔غرضیکہ مرد کا اثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بناتا ہے۔اسی لئے لکھا ہے الْخَبِيْثُتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَتِ ، وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ ( النور : ۲۷) اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنو ورنہ ہزار ٹکریں مارو کچھ نہ بنے گا۔جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔خاوند رات کو اُٹھ اُٹھ کر دعا کرتا ہے ، روتا ہے تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متاثر ہوگی عورت میں متاثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیرہ ہوتے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیرہ ہو جاتی ہیں ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کرسکتا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہوتا۔خدا نے مرد عورت دونوں کو ایک ہی وجود فر مایا ہے۔یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں ان کو چاہئے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کرتا ہے بلکہ عورت ٹکریں مار مار کے تھک جاوے اور کسی بدی کا پتہ اسے مل ہی نہ سکے۔تو اس وقت اس کو دین داری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو بجھتی ہے۔مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بداثر پڑنے کی