اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 671

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۷۱۔خطاب ۲۶ راگست ۲۰۰۰ء ایک روز ایک ہندو عورت نے کسی دوسری عورت کا گلہ کیا۔آپ نے فرمایا! دیکھو یہ بہت بری عادت ہے جو خصوصاً عورتوں میں پائی جاتی ہے چونکہ مرد اور کام بہت رکھتے ہیں اس لئے ان کو شاذ و نادر ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ بے فکری سے بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه جدید ایڈیشن) یہ ہر جگہ صرف عورتوں کا ہی دستور نہیں مردوں کا بھی ہوتا ہے۔چنانچہ مجھے علم ہے کہ ضلع ہزارے میں عموماً یہ عادت ہوتی ہے مردوں کی کہ وہ رات کو بیٹھ کر عورتوں سے دوسرے برے لوگوں کی چغلی کرتے ہیں تو عورتوں کو اس بات کا برا نہیں منانا چاہئے۔عورتوں میں بھی یہ قصور ہے اور مردوں میں بھی ہے لیکن عورتوں کو نہ علم ہوتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام ہوتا ہے اس لئے سارے دن کا شغل سوائے گلہ اور شکایت کے اور کچھ نہیں ہوتا پھر خواتین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی عورتیں صالحات میں نہ ہوں۔( ہر زمانے میں مسلمان عورتیں صالحات میں رہی ہیں مگر تھوڑی ) گو تھوڑی ہوں مگر ہوں گی ضرور۔جس نے عورت کو صالحہ بنانا ہو وہ خود صالح بنے۔( یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس نے عورت کو صالحہ بنانا ہے تو خو دبھی صالح بنے )۔ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پر ہیز گاری سکھاویں ورنہ وہ گناہ گار ہوں گے اور جب کہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔جب تقوی نہ ہو تو ایسی حالت میں اولا د بھی پلید پیدا ہوتی ہے، اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے، اگر یہ نہ ہو تو پھر اولا دخراب ہوتی ہے اس لئے چاہئے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثروں کو حاصل کرتی ہیں۔جب خاوند سید ھے راستہ پر ہوگا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ عورت کا یہ