اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 668
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۶۸ خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء ”وہ کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس مدینہ آئے اور ان کے گھر گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بچھونے پر بیٹھنا چاہتے تھے۔حضرت ام حبیبہ نے یہ دیکھ کر بچھونا الٹ دیا۔ابوسفیان سخت برہم ہوئے کہ بچھونا اس قدر عزیز ہے؟ بولیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرش ہے اور آپ مشرک ہیں اور اس بناء پر نا پاک ہیں۔ابوسفیان نے کہا کہ تو میرے پیچھے بہت بگڑ گئی ہے۔“ حضرت انس کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک سفر میں جارہے تھے اور ایک سیاہ رنگ کا غلام جس کا نام انجثہ تھا حدی خوانی کر رہا تھا جس کی وجہ سے اونٹ تیز چلنے لگتے تھے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجثہ ! ذرا ٹھہر کر اور آہستہ حدی خوانی کرتا کہ اونٹ تیز نہ چلیں کیونکہ اونٹوں پر شیشے اور آبگینے ہیں۔“ ( بخاری کتاب الادب) یہ محاورہ جو آج کل چلتا ہے Glass with Care رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ۴۰۰ سال سے بھی پہلے یہ محاورہ بیان فرمایا تھا جو آج تک اسی طرح چل رہا ہے۔ایک ابن ماجہ کتاب الاحکام میں مروی ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ: " آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم امہات المومنین میں سے کسی کے گھر تھے وہاں کسی دوسری بیوی نے حضور کو ایک پیالے میں کھانا تحفہ بھیجا۔یہ دیکھ کر اس گھر والی بیوی نے غصے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا جس سے وہ پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔“ (ابن ماجہ کتاب الاحکام) نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا مراد نہیں تھی بلکہ پیالے سے جو دوسری سوت نے بھیجا تھا اس سے ایک نفرت کے اظہار میں بے ساختہ اس سے یہ حرکت ہوگئی۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پیالے کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے جوڑا اور اس میں گرا ہوا کھانا اُٹھا اُٹھا کر جمع کیا۔ساتھ ساتھ آپ ناراضگی سے یہ فرماتے جاتے تھے تمہارا بُر ا ہو۔لوکھاؤ۔آپ نے یہ بار بار کہا تو اس اہلیہ نے پچھتا کر اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے اپنا سالم پیالہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا حضور نے ٹوٹے ہوئے پیالے کے بدلے میں یہ سالم پیالہ لانے والے کو دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس