اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 658
حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۵۸ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء یوسیر کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی کہ اے مومن عور تو اتم لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور سبحان اللہ اور الحمد للہ بھی بہت پڑھا کرو اور غفلت نہ کیا کرو اور غفلت کرتے ہوئے کہیں نعمت اور محبت کو نہ بھول جانا۔انگلیوں کی پوروں پر گنتی کر لیا کرو کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور یہ گواہی دیں گے۔ایک روایت بخاری کتاب الصلوۃ میں حضرت ام عطیہ کی مروی ہے وہ فرماتی ہیں ہمیں ارشاد ہوتا تھا کہ ہم دونوں عیدوں کے موقع پر حائضہ عورتوں اور پردے والی عورتوں کو بھی ساتھ لے کر جائیں وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعا میں شریک ہوں اور حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم میں سے کسی کے پاس اوڑھنی نہ ہو۔وہ اتنا غربت کا زمانہ تھا کہ بعض عورتوں کے پاس اوڑھنی تک نہیں تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہئے اس کی ساتھی اپنی اوڑھنی اسے بھی اوڑھا دے۔ایک روایت بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ کی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے۔مسلمان مومن عورتیں آپ کے ساتھ اوڑھنی لئے ہوئے نماز فجر میں شریک ہوتی تھیں۔پھر وہ اپنے گھروں میں لوٹتی تو کوئی انہیں پہچان نہ سکتا تھا۔ایک روایت بخاری کتاب الصلوۃ سے لی گئی ہے جو حضرت جابر بن عبد اللہ کی ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا میں آپ کے لئے کوئی ایسی چیز نہ بنوادوں جس پر آپ تشریف فرما ہوا کریں۔میرا ایک غلام بڑھئی کا کام کرتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر آپ کی مرضی ہے۔چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر بنایا جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخر وفات تک کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ایک روایت بخاری کتاب العلم سے حضرت ام سلمہ کی مروی ہے۔حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمانے لگے۔سبحان اللہ، اللہ پاک ہے۔آج رات کتنے فتنوں کے بارہ میں علم عطا فرمایا اور کتنے ہی خزانے مجھ پر کھولے گئے ہیں۔حجروں میں سونے والیوں کو جگاؤ کیونکہ کتنی ہی عورتیں ہیں کہ اس دنیا میں تو لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں مگر آخرت میں لباس سے عاری ہوں گی۔ایک روایت بخاری کتاب الزکوۃ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی مروی ہے کہ ایک غریب