اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 657

حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء مغیرہ نے شرک پر مجبور کر دیا۔شرک پر مجبور نہیں کر دیا۔شرک پر بہت مجبور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے عقیدے پر نہایت شدت سے قائم رہیں۔مشرکیں ان کو مکے کی جلتی تپتی ریت پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرتے تو یہ حالت دیکھ کر فرماتے تھے اے آل یا سر صبر کرو۔اس کے عوض تمہارے لئے جنت ہے۔دن بھر اس مصیبت میں رہ کر شام کو نجات ملتی تھی۔ایک مرتبہ شب کو گھر آئیں تو ابو جہل نے ان کو گالیاں دینی شروع کیں اور پھر اس غصہ میں اس قدر تیز ہوا کہ اُٹھ کر ایسا نیزہ مارا کہ آپ شہید ہوگئیں۔ان کے بیٹے حضرت عمار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا کہ اب تو حد ہو گئی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی تاکید فرمائی۔اور کہا خداوند آل یا سر کو جہنم سے بچا۔انہوں نے اس دنیا میں جو دنیا کی جہنم گرمی کی تھی وہ تو دیکھ لی انہوں نے تو آخرت کی جہنم سے بچا۔غزوہ بدر میں جب ابو جہل مارا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا۔دیکھو تمہاری ماں کے قاتل کا خدا نے فیصلہ کر دیا۔ایک روایت ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب قیام اللیل میں حضرت ابو داؤد کی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو رات کو اُٹھے نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو اُٹھائے۔اگر وہ اُٹھنے میں پس و پیش کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑ کے تا کہ وہ اُٹھ کھڑی ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھی نماز پڑھی اور اپنے میاں کو جگایا اگر اس نے اٹھنے میں پس و پیش کیا اس کے چہرے پر پانی چھڑ کا تا کہ وہ اُٹھ کھڑا ہو۔ایک روایت مسند احمد میں حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی بہترین مساجد ان کے گھروں کے اندر ہیں۔ایک روایت بخاری کتاب الایمان میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا یہ کون عورت ہے؟ میں نے عرض کیا یہ فلاں ہے جو اس قدر عبادت اور ذکر الہی میں مشغول رہتی ہے کہ سوتی بھی نہیں۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ وتم پر اسی قدر عبادت واجب ہے جتنی تم میں طاقت ہے۔خدا کی قسم ! تم تھک اور اُکتا جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس پر میانہ روی کے ساتھ مداومت اختیار کی جائے۔ایک روایت مسند احمد میں بھی حضرت مُمیضہ بنت یا سر کی مروی ہے وہ اپنی دادی یوئیر ہا سے روایت کرتی ہیں کہ جو مسلمان مہاجر خواتین میں سے تھیں یعنی وہ مسلمان مہاجر خواتین میں سے تھیں۔