اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 62

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات مسیح ۶۲ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء کے نیچے گھس گیا اور تلاش شروع ہوگئی کہ باپ کہاں گیا ہے، اُس کو مبارک باد دی جائے۔آخر حضرت اماں جان نے چار پائی سے نکلا ہوا بوٹ دیکھ لیا اور بوٹ سے پکڑ کر گھسیٹا کہ میاں ادھر آؤ ، آکر مبارک بادلو۔یہ وہ دور تھا سادہ ، اُسے سادہ دور کہیں۔ویسا دور تو شاید دوبارہ پیدا نہ ہو سکے لیکن اگر جلدی شادیاں کی جائیں اور بے وجہ زیادہ تعلمیات حاصل کرنے کے چکر میں نہ پڑا جائے ، یا عورت کو اپنے ماں باپ اور اپنے خاندان کو اقتصادی سہارا دینے کے لئے استعمال نہ کیا جائے تو بہت سی خرابیاں جو آج ہم دیکھتے ہیں معاشرے میں ، وہ دُور ہو سکتی ہیں۔چنانچہ ان طبعی مجبوریوں کی بناء پر قرآن کریم نے ہمیں تعلیم دی کہ اللہ سے مدد مانگا کرو۔ورنہ ہو سکتا ہے ایک شکل تمہیں چند دن اچھی لگے کچھ دیر کے بعد بری لگنے لگ جائے۔ایک عادت شروع میں پیار سے نخرے کے طور پر برداشت کرو تھوڑی دیر میں تکلیف دینے لگ جائے۔یہاں تک عادات کا اختلاف مسائل پیدا کر دیتا ہے کہ ایک مرد جو لقمہ کھاتے وقت اُنگلی بھی تھوڑی سی منہ میں داخل کر دیتا ہے ، وہ اتنانا قابل برداشت ہو جاتا ہے بعض عورتوں کے لئے جو حساس ہوتی ہیں ، کہ اسی وجہ سے ان کی لڑائیاں چل پڑتی ہی جو پھر ختم ہی نہیں ہوتیں۔بعض مردوں کو تہذیبی تقاضے پورے نہیں آتے کہ فوراً اُٹھ کر جب اکٹھے کھانا کھانے جارہے ہیں تو پہلے بل پیش کر دیں اور بعض Sensitive عورتیں ہوتی ہیں اُن کو شرمندگی ہوتی ہے دوسری عورتوں کے سامنے اُن کے خاوند اُٹھ رہے ہیں، اُن کے خاوند زیادہ تیزی کے ساتھ سرعت کے ساتھ تہذیبی تقاضے پورے کر رہے ہیں اور ان کے میاں چھڈو بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔اس کی وجہ سے تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور شروع شروع میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن رفتہ رفتہ اتنی شدت اختیار کر جاتی ہیں کہ با قاعدہ گالی گلوچ ،لڑائیاں، جھگڑے، فساد اور جب اپنے گھر میں گالی دینے والے وجود مزید نہیں ملتے تو پھر ماں باپ کے گھر تک پہنچتے ہیں۔پھر کبھی خاوند یہ ظلم شروع کرتا ہے، کبھی بیوی یہ ظلم شروع کرتی ہے کہ ہاں ہاں تم نہیں تمہارے تو ماں باپ بھی ایسے تھے۔تمہاری تو نسلیں ایسی ہیں اور تمہارے رشتہ دار جو ہیں ، جہاں جہاں تم نے اپنی بہنوں کی شادیاں کی ہیں وہ بھی ہم نے دیکھے ہوئے ہیں اور پھر اگر مرد نے شروع کیا ہے تو عورت جواب دیتی ہے اور عورت نے شروع کیا ہے تو مرد جواب دیتا ہے۔اپنے اختیار میں تو آپ کے کچھ بھی نہیں ہے۔اگر اپنے تعلقات کو عام بہاؤ کے اوپر چلنے دیں گے تو یہ نتیجے لازماً نکلیں گے اس لئے دیکھئے قرآن کریم نے کتنی پیاری تعلیم دی ہے۔فرمایا اپنی کوششوں پر، اپنے طبعی تقاضوں پر انحصار نہ کرنا بلکہ مسلسل یہ دعا کرتے رہنا: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا