اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 627
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۲۷ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء اقتباسات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔" قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) یہ عجیب تفسیر ہے نئی اس آیت کی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان کی ہے وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے دوسروں کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جائے جو عیب دکھائی دیں تو رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو نصیحت کی جائے۔پھر فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا بھی کی جاوے دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سومرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔“ پھر سعدی کا ایک شعر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے مگر ہمسایہ کوعلم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ الله نو ( یعنی خدا کی صفات کو اختیار کرو۔اگر وہ ستار ہے تو تم بھی ستار بنے کی کوشش کرو) 66 ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص : ۶۰) پھر خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے ہیں اور ایسے ہیں پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان کے پاس بیٹھی ہوتی ہے اس سے نفرت کرتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص: ۲۹) بعض دفعہ بد قسمتی سے یہاں تو نہیں مگر پاکستان میں اور پنجاب وغیرہ میں ہمارے امیر یا میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے ہی بعض دفعہ زمیندار عورتیں ایک غریب کپڑوں والی عورت سے ذرا سکر