اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 619
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۱۹ خطاب ۲۲ را پریل ۲۰۰۰ء ضرورت نہیں خدا کی راہ میں بہادر بننا بہت بڑی بات ہے۔آنحضور ﷺ کی دعائیں میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھیں ان میں بزدلی سے بہت پناہ مانگی گئی ہے اور خدا کی راہ میں بہادر ہونے کی توفیق مانگی گئی ہے پس آپ بھی بہادر بنیں۔چند روزہ دنیا ہے اس کی خاطر بزدلی دکھائیں گی تو کہاں بھاگ جائیں گی۔اس کو چھوڑ کرکس اور دنیا میں چلی جائیں گی۔اس کی تو یہی مثال ہے جو میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کی مگر ہے ایسی پیاری مثال کہ اسے بار بار بیان کرنے کو جی چاہتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسح الاول اپنی زندگی کی داستان میں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کشمیر میں میں ایک ایسے درویش سادھو انسان کو فقر و فاقہ کرنے والے کو دیکھا کرتا تھا جو بیٹھا ہوا سر جھکائے اور سوائے غم کے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ایک لنگوٹی پہنی ہوئی اور غم سے سر جھکایا ہوا فکروں کے پہاڑ تلے سرد با ہوا ایک دن آپ نے کیا دیکھا کہ وہ خوشیوں سے اچھل رہا ہے اور چھلانگیں مار رہا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول لکھتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کہ بابا تمہاری تو وہی ایک ہی لنگوٹی ہے، وہی فاقے ہیں، وہی بھکاری ہو جو پہلے ہوا کرتے تھے۔تمہیں کیا خزانہ ل گیا ہے جوتم اس قدر چھلانگیں لگا ر ہے ہو۔تو اس فقیر نے جواب دیا کہ جس کی ساری امیدیں پوری ہو جائیں وہ کیوں نہ خوشی سے اچھلے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول جو اس وقت خلیفہ نہیں حکیم نورالدین تھے۔آپ نے حیرت سے پوچھا تمہاری ساری امنگیں پوری ہوگئیں۔تو اس نے کہا آپ نہیں جانتے جس کی امنگ ہی کوئی نہ رہے اس کی ساری پوری ہوگئیں۔تو ایک یہ بھی قناعت کا طریقہ ہے کہ اپنی بلند امنگوں کو چھوڑ دیں اور قناعت اختیار کریں۔قناعت سے بڑھ کر صبر والی کوئی چیز نہیں ہے۔جو کچھ خدا نے دیا ہے اس پر راضی ہو جائیں۔تو اللہ تعالیٰ پھر بے انتہا فضل اور بھی فرماتا ہے مگر مرکزی نقطہ یہ ہے کہ زیادہ کی خاطر راضی نہ ہوں بلکہ کم سے کم پر تسلی پکڑیں اور راضی ہو جائیں کہ ہم بہتر ہیں ہم دوسروں سے بہت بہتر ہیں۔جب یہ سوچیں گی تو انشاء اللہ آپ کو بہادری نصیب ہوگی۔پھر آپ اس فقیر کی طرح اچھل سکتی ہیں اور کہہ سکتی ہیں کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو جائیں اس کو سب کچھ مل گیا۔غالب نے بھی اسی مضمون کا ایک شعر کہا ہے۔گر تجھ کو ہے یقین اجابت، دعا نہ مانگ یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ اے انسان اگر تجھے یقین ہو جائے کہ تیری دعا قبول ہو جائے گی تو صرف یہ دعا مانگ کہ اے