اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 592
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۲ خطاب ۲۲ مراگست ۱۹۹۸ء ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو یہ قناعت نصیب تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو یہ بچی قناعت نصیب تھی۔دارد حضرت ابو ہریرہ کی جو روایت اکثر بیان ہوتی رہتی ہے میں مختصراً اس کا ذکر کر دیتا ہوں کیونکہ وہ بھی قناعت کا ہی مضمون ہے اور قناعت کے نتیجے میں رسول کریم نے فرمایا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے، اس کی ایک حقیقی مثال ہے یعنی کوئی فرضی بات نہیں ہے کہ نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے عملاً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں خدا تعالیٰ نے یہ دکھا دیا کہ واقعۂ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں۔یہ ایک دوسری روایت ہے جو میں بیان کرنا چاہتا تھا حضرت ابو ہریرہ کے چہرے سے بھی بھوک کا اندازہ اگر کسی کو ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تھا۔کیونکہ آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَعْرِفُهُمْ بِیمُهُمْ (البقرہ:۲۷۴۰) اگر کوئی شخص جو ان فقر کے چھپانے والے کے چہرے سے بھوک پڑھ سکتا ہے صرف تو ہے۔جو لمبی روایت ہے اس میں حضرت ابو ہریرۃ کے فقر کا احساس کر کے، ان کی بھوک کا احساس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ابو ہریرہ تم بھوکے ہو۔مجھے کہیں سے دودھ آیا ہے آؤ تمہیں بھی اس دودھ میں شریک کروں۔ابوھریرہ بہت خوش ہوئے کہ ایک پیالہ دودھ کا ہے میں غٹ غٹ پیوں گا اور بہت حد تک میری بھوک مٹ جائے گی مگر اس حدیث کا یہ دوسرا پہلو قناعت والا پہلو ہے اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ قناعت ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔آنحضور نے ابو ہریرہ کو قناعت کا گر بھی سکھانا تھا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جاؤ اعلان کرو کہ اور کچھ بھوکے ہیں تو ان کو بھی اکٹھا کر لاؤ۔اب حضرت ابو ہریرۃ کے دل کا کیا حال ہو گا سخت بھوکے، کئی دن کے بھوکے، بھوک سے غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ایک پیالہ دودھ آیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں باقیوں کو بھی بلا لو۔لیکن پھر اب غور کریں تو مطلب یہ تھا کہ جتنا تمہیں ملے اسی پر قناعت کرو اور جب بھوک کی شدت ستار ہی ہو اُس وقت کم پر قناعت کرنا یہ قناعت ہے لیکن یہ سمجھانا بھی مقصود تھا کہ خدا کی خاطر جو قناعت کرتے ہیں۔اللہ ان کولا متناہی دیتا ہے وہ قناعت کے نتیجے میں کسی رزق سے محروم نہیں رہتے۔چنانچہ حضرت ابوہریر گانے ایسا ہی کیا۔آواز دی کہ اور کوئی بھوکا ہے تو آجائے اور چند بھو کے چھ سات اور ا کٹھے ہو گئے۔اس وقت آنحضور نے ابو ہریرہ کو اپنے بائیں طرف بٹھایا اس لئے بائیں طرف بٹھایا کہ آپ دائیں طرف سے شروع کیا کرتے تھے۔ابو ہریرہ کو قناعت کا مضمون اچھی طرح سمجھانا تھا۔یہ بھی سمجھانا تھا کہ تم دیکھنا