اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 584

۵۸۴ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات پس حیا کے پردہ کو بھی قناعت ہی کہتے ہیں اور قناعت کے لفظی معنوں میں پردہ داخل ہے۔پھر فرمایا۔تَعْرِفُهُمْ بِمُهُم - اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ! تو ان کے چہروں کی نشانیوں سے ان کو پہچانتا ہے۔بولتے نہیں۔لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا۔کبھی بھی وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللهَ بِهِ عَلِيمٌ اور جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو اللہ اس کا علم رکھتا ہے۔یہاں بھی دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ تم لوگ جو ان پر مخفی ہاتھ سے خرچ کرو گے اس لئے کہ ان کی غیرت کو للکارا نہ جائے، یہ حیا کا پردہ بھی رکھیں اور خاموشی سے قبول بھی کر لیں۔فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِیم۔اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے اس لئے یہ خیال نہ کرنا کہ اللہ کی خاطر تعفف کرنے والے، بچنے والوں کے اوپر جو تم چھپے ہوئے ہاتھ سے خرچ کرو گے اللہ کو اس کا علم نہیں۔اب اس مضمون پر بھی روایات ملتی ہیں حیرت انگیز روایات صحابہ راتوں کو نکل جاتے تھے اور یہ سمجھ کر کہ شاید یہ محتاج ہو کسی کے ہاتھ میں کچھ تھا کر نکل جایا کرتے تھے اور بعض دفعہ امیروں کو بھی دے دیتے تھے لیکن اخفاء کا اس قدر شوق تھا کہ دنیا کی نظر میں یہ نیکی نہ آئے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْر جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے اور اس کے علاوہ یہ لوگ جن کا گزارہ محض معمولی طور پر لکڑیاں بیچ کر ہوا کرتا تھا یہ بھی خرچ کرتے تھے اور ان کا خرچ قناعت کا ایک عظیم الشان مضمون پیش کر رہا ہے کیونکہ پاس کچھ نہ ہو یا جتنا ہو اس میں سے کچھ خرچ کرو یہ قناعت ہے اور ثابت ہے صحابہ کی روایات سے کہ یہ لوگ خدا کی راہ میں جتنی توفیق ملتی تھی کچھ بچاتے تھے اور خرچ بھی کرتے تھے۔پس قناعت کا مضمون جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے بے انتہا وسیع ہے اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر پھیلا پڑا ہے۔خواتین سے خصوصیت سے اس کا تعلق ہے کیونکہ قع کا بنیادی مطلب ہی پردہ اوڑھنا ہے۔چہرے کو ڈھانپنا قناعت کا لفظی ترجمہ ہے اور باقی جتنے معنی میں نے بیان کئے ہیں وہ اسی لفظی ترجمے سے نکلے ہیں۔عورت تبھی قانع ہوگی جب وہ اپنے آپ کو ڈھانپے گی ورنہ اس لفظ کے بنیادی مضمون سے ہی وہ غافل ہے۔تو اس پہلو سے آپ کو اپنی بچیوں کی تربیت کا ایک بہت اچھا گر ہاتھ آگیا۔آپ کی بچیاں جب باہر نکلتی ہیں اور باہر کے ماحول میں جا کر چہرے سے پردے اٹھالیتی ہیں ان کو بتانا چاہئے کہ اللہ جانتا ہے جو تم کر رہی ہو اور قناعت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے بدن کو سمیٹ کر اور اپنے چہرے کو جس حد تک چلنے پھرنے کے لئے ضروری ہے اس حد تک نگا کرو اور باقی حصے کو ڈھانپو۔