اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 578
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ضرورت ہے۔۵۷۸ خطاب یکم راگست ۱۹۹۸ء میری مراد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ ہیں۔ان کی بات کا بہت اثر ہوا کرتا تھا۔کثرت سے خواتین ان کی سادہ باتیں سن کر احمدی ہوئیں۔ایک عورت جو بہت متاثر ہوئی اس نے پوچھا کہ مجھے بھی بتائیں کہ یہ علم آپ نے کہاں سے پڑھا ہے، کیا طریقہ ہے کہ آپ کی بات میں اثر ہے؟ انہوں نے دو باتیں فرمائیں۔انہوں نے کہا مجھے تو کوئی علم نہیں ہے میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میں اللہ سے ڈرتی ہوں اور اس سے محبت کرتی ہوں۔اتنی عظیم الشان بات کر دی ہے ان دو فقروں میں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ کس طرح یہ آپ کی ساری زندگی کے لئے رہنما بن سکتی ہیں۔اللہ سے ڈرنے کے ساتھ ان کا یہ ذکر کرنا کہ محبت کرتی ہوں۔یہ مضمون کو مکمل کر دیتا ہے۔بعض لوگ ڈرتے ہیں کسی چیز سے تو اس سے دور بھاگتے ہیں۔ڈرنے کا ثبوت یہ پیش کیا کہ میں اس کی طرف بھاگ رہی ہوں جس سے ڈرتی ہوں یہ ڈرتی ہوں کہ کسی پہلو سے ہی میں اس کی رضا جوئی سے محروم نہ رہ جاؤں اس لئے ڈرنے کا طبعی تقاضا ہے کہ میں اس سے محبت کروں۔تو ساری نصیحتیں ایک طرف اور یہ مرکزی نصیحت ایک طرف۔جس کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بار ہا توجہ دلائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی احادیث میں اسی مرکزی نقطے کو اُٹھایا ہے کہ دو کام کرو، اللہ سے ڈرو اور اس سے محبت کرو، ساری دنیا تمہارے قدموں میں ہوگی کیونکہ قلوب کو فتح کئے بغیر اذہان کی فتح ممکن ہی نہیں۔ذہنوں میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک آپ دلوں پر حکومت نہ کریں۔پس یہ عذر کہ ہماری تعلیم نہیں ہے ہمیں زبانیں بھی پوری طرح نہیں آتیں اول تو زبان کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے مگر میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کو ز بانہیں نہیں بھی آتیں مگر دل میں خدا کا خوف رکھتی ہیں اور اللہ سے محبت کرتی ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ ایک خاموش زبان عطا کرتا ہے۔جواثر سے باز نہیں رہتی۔ان کی خاموشی میں ایک گویائی ہو جاتی ہے۔ایسی گویائی جو حیرت انگیز طور پر دلوں پر اثر کرنے والی ہوتی ہے۔پس اس نصیحت کے ساتھ میں اب اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔میں خوش ہوں کہ میں نے وہ تفصیلی ذکر پیچھے چھوڑ دیئے تھے تا کہ کہیں میں انہیں بیان کرنے کے لئے Tempt نہ ہو جاؤں۔یعنی دیکھوں گا تو میں یہ کہوں گا کہ چلیں میں یہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔اس طرح یہ مضمون بہت لمبا ہو جاتا تھا۔اب میرا خیال ہے کہ میں انداز اوقت پر اس خطاب کو ختم کر رہا ہوں۔اس کے بعد میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ آج کے خطاب کو بھی غور سے