اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 577
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۷۷ خطاب یکم راگست ۱۹۹۸ء جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔آپ میں سے ہر ایک کو جو سن رہا ہے میں سنا رہا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انداز بیان میں کہتا ہوں کہ میں کس دف سے منادی کروں کہ آپ کے کان سننے کے لئے کھل جائیں اور آپ کے دل ان باتوں کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں۔" بار بار کہنے کے باوجود بار بار یہی مشاہدہ ہوتا ہے کہ ابھی عملی تربیت کی بہت بھاری گنجائش موجود ہے۔ایک ہی طریق ہے کہ مائیں اپنی ذمہ داری کے لحاظ سے بیدار ہو جائیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے تابع ماؤں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے اپنے بچوں کے لئے جنت پیدا کریں۔ان ماؤں کے پاؤں تلے جنت ہے جو اپنے بچوں کو جنت کے پیغام دیتی ہیں۔جنت میں داخل ہونے کے طریق سکھاتی ہیں ، جو نہیں سکھاتی تو ان کے نیچے تو جنت نہیں۔ان کے پاؤں تلے اللہ جانتا ہے کہ کیا کچھ ہے؟ پس آپ اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھیں کہ جو باتیں میں کہ رہا ہوں اس میں جو اصرار کرتا ہوں، یہ تکرار نہیں ہے اصلاح ہے۔میرا فرض ہے مجھے بار بار کرنی پڑتی ہے۔بارہا ایسے خطبات کو میں دہراتا چلا جاتا ہوں جن میں ایسی باتوں کو کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اپنی دانست میں پھر بھی کرنا پڑتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ عملاً اصلاح بہت مشکل کام ہے۔عملاً پیغام کو سمجھنا بہت ہی غیر معمولی توجہ کو چاہتا ہے اور اس توجہ کی راہ میں بہت سی چیزیں حائل ہیں۔ان میں زبان ہی ایک حائل چیز ہے۔میں سمجھتا ہوں سب کو سمجھ آگئی ہے مگر بہت سی ایسی خواتین ہیں جن میں جب تک پنجابی کی تقریر نہ کی جائے ان کو سمجھ میں کچھ نہیں آتی اور جوار دوران بھی ہیں اُن کے لئے بھی ہر بات سمجھنا مشکل ہے۔اس تکرار اور اصرار میں فرق ہے۔وہ تکرار جو اصرار کی وجہ سے کی جائے اس کا نام اصل میں اصرار ہے تکرار نہیں اور یہی حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیوا تھا۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دستور تھا۔آپ اُن کی کتابیں پڑھ کے دیکھ لیں اس قدر تکرار ہے کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں کہ بے وجہ تکرار سے کام لیا جا رہا ہے مگر حقیقت میں ہر تکرار میں کچھ تو نئے مضامین بھی ہیں اور تکرار ان مضامین کی ہے جنہیں جب تک بار بار سمجھا سمجھا کر بیان نہ کیا جائے لوگوں کی عقلیں ان کو قبول نہیں کرتیں۔بس میں اب اس خطاب کو ختم کرنے سے پہلے ایک نیک خاتون کی مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے پتہ چلے گا کہ دینی خدمات کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں ہے کچھ اور چیزیں ہیں جن کی