اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 558

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۵۸ خطاب ۲ رمئی ۱۹۹۸ء کسی آیت کو سمجھیں اور دعا کریں کبھی دوسری آیت پر زور دے کر اس کو سمجھیں اور دعا کریں یہ ایک چھوٹا مگر بہت بڑا پیغام ہے۔میں مزید کہتا ہوں کہ لجنہ اماءاللہ ہالینڈ توجہ سے سن رہی ہوگی اور اس پر عمل کا ارادہ بھی کیا ہوگا تو آئندہ جب بھی آؤں اس وقت مجھے پتہ چلے گا۔لیکن اگر اس سے پہلے صدر لجنہ اماءاللہ با قاعدہ ایک ایک ممبر لجنہ کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ کیا کریں کہ اتنوں کو سورۃ فاتحہ کا مضمون سمجھنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی اتنی ہیں جو سمجھ چکی ہیں تو چھوٹی سی رپورٹ میں مجھے بہت کچھ مل جائے گا، بجائے اس کے کہ تھیں چالیس صفحے کالے کئے جائیں جس کا مجھے کوئی بھی فائدہ نہ ہو۔ایک چھوٹی سی خبر مجھے دے دیں تو میرا دل اس سے بہت راضی ہوگا۔میں امید رکھتا ہوں کہ اس طرح توجہ کریں گی۔دوسرے ایک اور بات ہے تبلیغ سے متعلق۔کل آپ نے ایک نظارہ دیکھا ہے وہی لوگ گھیر گھار کے لائے جاتے ہیں جن کو الف ب بھی سلسلہ کی نہیں پتہ اور اپنی طرف سے گھیر نے والے اپنے نمبر بناتے ہیں کہ دیکھو ہم بڑی تبلیغ کر رہے ہیں۔حالانکہ میرے ہاں نمبر بنانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں نمبر تو اللہ کے گھر بنیں تو پھر فائدہ ہوگا اور اللہ جانتا ہے کہ کیسی تبلیغ کی گئی ہے کتنی تبلیغ کی گئی ہے۔اکثر کل کے سوال جواب کی مجلس میں میں نے یہی اندازہ کیا ہے کہ یہاں تبلیغ نام کی کوئی چیز نہیں محض ایک شور ڈالا جارہا ہے۔مجھے جب میں آتا ہوں اکٹھے کر کے لوگ دکھا دیئے جاتے ہیں یا اس سے پہلے تبلیغ کا کام کرنے والوں نے رپورٹوں کے ذریعہ مجھ پر بہت اثر ڈالا ہوتا ہے اس وقت ساری جماعت ایک طرف اور ہم ایک طرف اور ہماری تبلیغ دیکھو اتنا بڑا پھل لا رہی ہے۔ان کو میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ آپ کی تبلیغ کے دو دروازے ہیں ایک اندر کی طرف کھل رہا ہے اور ایک باہر کی طرف کھل رہا ہے۔اندر آنے والے زیادہ دیر جماعت میں نہیں ٹھہرتے وہ آتے ایک طرف سے اور باہر دوسری طرف سے نکل جاتے ہیں یہ کوئی تبلیغ نہیں۔یہ چیز اللہ دیکھ رہا ہے اس سے مجھے بیکا ر خوش کرنے سے کیا فائدہ۔میں تو ایک عاجز ناکارہ انسان ہوں میں آپ کو کچھ بھی نہیں دے سکتا دینے والا اللہ ہے وہی جزا دیتا ہے اور وہی سزا بھی دیتا ہے۔اگر اس طرح ایک قسم کے دھوکے سے کام لیا جائے خواہ آپ کی نیت کچھ اور ہو دھوکہ دینا نہ بھی ہو تو آپ کی کوشش کی حقیقت کو اللہ ضرور سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ کوئی تبلیغ نہیں۔تبلیغ وہ ہے جس کے نتیجے میں آپ کی جماعت نئے آنے والوں سے بھر جائے ،ان کے اندر جذ بہ ہو، ان کے اندر ولولہ ہو وہ آگے بڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لیں ساری جماعت کے ہاتھ بٹائیں۔اگر ایسا ہوتا ہے