اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 51

حضرت خلیفہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۱ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء عورت از لی طور پر بنیادی طور پر گنہگار ہے۔چنانچہ تو ا کے گناہ کا باعث تورات نے عورت کو قرار دیا اور اس گناہ کو موروثی طور پر بنی نوع انسان میں جاری کرنے کی ذمہ دار عورت ہے اور اس کی سزا یہ سنائی کہ تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔اب تصور کریں یہ مذہب یا مذہب کا یہ تصور کہاں اور کہاں اسلام کی پاکیزہ اور حیرت انگیز ایسی تعلیم جو آج کی دنیا میں بھی جدید ترین تعلیم نظر آرہی ہے۔ان پیشگوئیوں میں سے ایک تو چل رہی ہے ابھی تک یعنی عورت درد کے ساتھ بچے جنتی ہے بیچاری۔اگر چہ یورپ میں اس کے سامان پیدا کئے جا رہے ہیں کہ بچہ درد کے ساتھ نہ ہو۔دوسری پیشگوئی تو کلیۂ غلط ثابت ہو گئی ہے مغربی تہذیب میں کہ تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف رہے گی۔یہ پیشگوئی تو ایسی جھوٹی بنی ہے کہ اس تہذیب نے اس پیشگوئی کے پر خچے اڑا دیئے ہیں۔آج کی دنیا میں مغربی تہذیب کے تقاضوں کو پورا کرنے والی عورتیں صرف ایک شخص سے رغبت نہیں رکھتیں (یعنی اپنے خاوند سے )، باقی سب سے رغبت رکھتی ہیں۔اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا یہ بھی ختم ہو گیا معاملہ۔اب تو ایسا وقت بھی آگیا ہے کہ عورتیں مردوں پر حکومت کرنے لگی ہیں اور اس کے بدنتائج بھی ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اس ضمن میں میں آپ کی توجہ یورپ کے بعض ممالک کے قوانین کی طرف مبذول کراتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا عورتوں نے اپنے ظالمانہ پس منظر سے نجات پانے کیلئے خود جد وجہد کی ہے اور جب ایک فریق بن کر ایک گروہ جد و جہد کرتا ہے تو یہ عقلاً اور نفسیاتی لحاظ سے ناممکن ہے کہ وہ اُس مقام پر ٹھہر جائے کہ جہاں ٹھہر نا فریقین کیلئے مناسب ہو ، جہاں انصاف کے تقاضے مطالبہ کرتے ہوں کہ یہاں ٹھہر جاؤ اس لئے ہمیشہ ایسی جدو جہد میں تحریکات مرکزی نقطے سے کئی قدم آگے نکل جاتی ہیں تحریکات پینڈولم کی طرح جس طرح گھڑی پرانے زمانے کی ہوا کرتی تھی، پیڈ ولم لٹکتا تھا۔کبھی ادھر نکل گیا کبھی اُس طرف نکل گیا۔بیچ میں نہیں کھڑا ہو سکتا تھا اسی طرح یہ تحریکات ایک طرف سے چلتی ہیں اور دوسری طرف نکل جاتی ہیں۔یورپ کی تحریک آزادی یعنی عورت کی تحریک آزادی چونکہ عورتوں کے ہاتھ میں تھی اور اُن کے مطالبات جائز حد سے آگے بڑھ چکے تھے ، اس لئے انہوں نے وہ کچھ بھی حاصل کر لیا جو مناسب نہیں تھا اور اس کے نتیجے میں خود اپنی خوشیوں سے محروم رہ گئیں ہیں اور اس کے نتیجے میں بعض ایسی