اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 50
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۰ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء لگ جاتی ہے اس لئے اس ظلم سے نجات کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ یہ رشتہ ختم کر دیا جائے اور عورتوں کو عام پبلک کی جاگیر بنا دیا جائے یعنی یہ لفظ تو اس نے استعمال نہیں کئے لیکن نتیجہ یہ نکالا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو مسائل پیدا ہوں ان کا وہ ایک حل پیش کرتا ہے۔وہ یہ کہتا ہے کہ عورت صرف بچہ جننے کی مشین کے طور پر استعمال ہوگی، چونکہ عورت سے ہم نے فیکٹریوں میں بھی کام لینے ہیں، باہر کی دنیا میں اس پر سارے بوجھ ڈالنے ہیں اس لئے یہ زیادتی ہوگی کہ عورت کے سپر داپنے بچوں کی دیکھ بھال کی جائے ، اس لئے پیدا ہوتے ہی اس کے بچے اس سے چھین لئے جائیں گے اور انہیں سٹیٹ کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔یہ ہے جدید ترین فلسفے کا جدید ترین تصور جو آپ کے متعلق باندھے بیٹھے ہیں اور ابھی انہیں توفیق نہیں ملی اسے پورا کرنے کی۔مگر اگر اشتراکیت ساری دنیا میں پھیل جائے تو پھر یہ بحث نہیں رہے گی کہ بچے کسی عورت کے ہیں یا اس کے باپ کے ہیں۔بچوں کے باپ کے ہیں یا بچوں کی ماں کے ہیں۔بچے کسی کے بھی نہیں رہیں گے سٹیسٹ کے ہو جائیں گے اور عورت صرف بچے پیدا کرے گی اور ہر کس و ناکس کو حق حاصل ہوگا کہ جس عورت سے چاہے اپنے بچے پیدا کرتا پھرے اور بچے پیدا کرنے کے عرصہ میں سٹیٹ اس کی دیکھ بھال کرے گی اور اس کے بعد اسے واپس فیکٹریوں میں بھیج دیا جائے گا۔اس کو کچھ پتہ نہیں ہوگا کہ میں نے کس کو جنم دیا تھا اور ان کا کیا حال ہوا۔ایسی ہولناک ایسی خوفناک تہذیب آج اس صدی میں جنم لے رہی ہے۔گزشتہ صدی میں اس کا بیج بویا گیا تھا اور ابھی یہ پرورش پا رہا ہے۔الحمد للہ کہ ابھی یہ درخت نہیں بن سکا لیکن اس طرف حرکت ضرور ہے اور معذرت کے طور پر Lenin نے یہ لکھا ہے کہ اگر چہ ہم سر دست اس کو پوری طرح نافذ نہیں کر سکے لیکن ہماری آخری منزل یہی ہے۔جب اشتراکیت اپنی پوری شان اور پوری قوت کے ساتھ دنیا پر اپنا تسلط جمالے گی تو اس وقت تمام خاندان مٹ جائیں گے، تمام میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات ختم ہو جائیں گے، تمام ماں بیٹے کے رشتے ختم ہو جائیں گے نہ بہن بھائی کا کوئی رشتہ رہے گا اور پھر یہ بھی کوئی پتہ نہیں کہ اس کے بعد کون کس سے بچے پیدا کر رہا ہوگا کیونکہ جب تمام انفرادی لیبل اُٹھ جائیں گے تو یہ تو نہیں پتہ رہے گا کہ بیٹا کس کا ہے اور بیٹی کس کی ہے، بہن کس کی ہے اور بھائی کس کا ہے۔ماں کس کی ہے اور باپ کس کا ہے۔پھر تو تمام سٹیسٹ میں سب عورتوں پر سب مردوں کے برابر نا جائز حقوق قائم ہو جاتے ہیں۔جہاں تک عورت کے حقوق کا یہودی مذہب میں تصور پایا جا تا ہے اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ