اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 513

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۱۳ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء احمدی خاتون غیروں سے لپٹ جائیں اور ان سے احمدیت کے حق میں لڑنے لگیں اور ہر وہ پروگرام جو جماعت کو دیا جائے اس میں وہ اول اول اور آگے آگے ہوں، یہ نیا نظارہ ہے، جوان سالوں نے دیکھا ہے اور اس سال نے خصوصیت کے ساتھ دیکھا ہے۔اس وقت آپ کے سامنے لجنہ اماءاللہ Indonesia کی خواتین بیٹھی ہیں ، میری دائیں طرف کبھی اتنی تعداد میں Indonesia کی نمائندگی نہیں ہوئی تھی جتنی اس دفعہ ہوئی ہے اور کبھی اس تعداد میں Indonesia کی خواتین میدان عمل میں نہیں نکلی تھیں، جیسے اب نکل آئی ہیں۔پس سب سے پہلے تو میں Indonesia کا مختصر ذکر کرتا ہوں۔ان میں اکثر کو تو میں نہیں جانتا۔مگر جن چند کو جانتا ہوں ! ان کے نام بھی لیتا ہوں۔سب سے پہلے تو عبدالقیوم صاحب کی فیملی کی خواتین۔ان کی خواتین نے تمام Indonesia میں MTA کی کارروائی کو نہ صرف مدددی ہے بلکہ اس شان کے ساتھ بعض حصوں کو سنبھالا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔غیر معمولی طور پر آگے آکر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والی ہیں اور اسی خاندان کی عورتیں جو تبلیغ میں بھی خدا کے فضل سے بہت آگے نکل گئیں ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ Homeopathic کو انڈونیشیا میں داخل کرنے والی اور متعارف کروانے والی اسی خاندان کی بچیاں ہیں اور ان سب نے اپنے اپنے ذمے مختلف باتیں لگا رکھیں ہیں، جن کے لئے یہ ہمہ تن وقف ہیں اور ان کے ساتھ کثرت سے دوسری احمدی خواتین شامل ہیں۔اسی طرح عزیزہ خدیجہ پونتو ہیں جو سال ہا سال سے ربوہ ، قادیان، یہاں آتی چلی جارہی ہیں اور ان کی لجنہ اماءاللہ Indonesia کے لئے خدمات غیر معمولی ہیں۔صرف لجنہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ آپ نئی حیثیت سے بھی ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی خدمات انجام دے رہی ہیں۔پس یہ سارا وفد جو Indonesia خواتین کا آپ کے سامنے بیٹھا ہے یہ احمدیت کے لئے یوں لگتا ہے جیسے Charged ہو گئے ہیں، بجلی جس طرح Charged ہو جاتی ہے۔ان کے اندر بڑا ولولہ ہے جب ملاقات کے لئے آتی ہیں، تو وفور جذبات سے ان کے آنسو دھاروں بہتے ہیں۔خود بھی روتی ہیں، مجھے بھی رلاتی ہیں مگر یہ محبت اور عشق کے آنسو ہیں۔اس بات کے اس احساس کے آنسو ہیں کہ ہم خدا کے قریب ہو رہے ہیں اور خدا کے قریب ہونے کی وجہ سے بنی نوع انسان کے قریب ہو رہے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ انڈونیشیا میں ایک لمبے عرصے سے جو ایک انقلاب رکا ہوا تھا اب انشاء اللہ احمدی خواتین کے ذریعے انڈونیشا میں ایک عظیم انقلاب بر پا ہو گا۔اگر چہ مردبھی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن جو خواتین کے جاگنے کی شان ہے