اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 512

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۲ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء دشمن پر لپکی اور رسول کا ساتھ نہیں چھوڑا۔وہ یہ خاتون تھیں۔جب آنحضرت پر ابن امیہ نے وار کیا ہے، جو آگے بڑھا ہے، تو یہ ایک خاتون تھیں جو آگے بڑھیں ہیں اور اپنی کمزوری کے باوجود اس پر وار کرتیں رہیں ، یہاں تک کے اس ایک وار سے آپ کے کندھے پر ایسا گڑھا پڑ گیا کہ جو ہمیشہ آپ کو معذور رکھتا رہا جس نے ہمیشہ کے لئے آپ کو معذور کر دیا۔خود اس خاتون کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی ، النصاری فی تمیم الصحابہ ابن ہند السلانی، نے یوں دی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بیان فرماتے تھے کہ اُحد میں اُن کو اپنے دائیں اور بائیں اس خاتون کو آپ نے اُحد میں برابر لڑتے دیکھا۔آنحضرت کا یہ بیان کہ جب بڑے بڑے سورما بہادر مسلمان سپاہی بھاگ گئے تھے ، یہ خاتون مجھے کبھی دائیں نظر آتی تھیں کبھی بائیں نظر آتی تھیں اور دونوں طرف میں اسے لڑتا ہوا دیکھتا تھا۔اتنا بڑا خراج تحسین ہے ایک عورت کو کہ اس سے بڑا اور خراج تحسین ممکن نہیں۔میں آپ کو ایک خراج تحسین دینا چاہتا ہوں اب میرا یہ حال ہے کہ میں احمدی خواتین کو اپنے دائیں بھی لڑتے دیکھ رہا ہوں اور اپنے بائیں بھی لڑتے دیکھ رہا ہوں، اپنے آگے بھی لڑتے دیکھ رہا ہوں اپنے پیچھے بھی لڑتے دیکھ رہا ہوں۔احمدی خاتون اب وہ نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔احمدی خاتون اس طرح بیدار ہو کر جہاد کی تلواریں ہاتھ میں لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی ہے کہ زمانے پر ایک رعب ڈال چکی ہیں اور احمدی خواتین سے بڑے بڑے علماء بھی ڈرتے اور کانپتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ، احمدی خواتین نے ہر میدان میں میرا ساتھ دیا ہے اور ہر میدان میں ، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں ہر طرف لڑتی ہیں۔ان میں بہت سی ایسی ہیں جو مجھے لکھتی ہیں کہ خدا کی قسم اگر آپ کی جان کو خطرہ ہو، تو آپ ہمیں فوج صحابہ کی طرح اپنے آگے اور پیچھے رکھ کر دیکھیں، تو لکھتی ہیں کہ کاش ہم میں طاقت ہو کہ ہم آپ کو دکھا سکیں کہ کس طرح ہم اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔یہ وہ دور ہے جس میں احمدی خواتین اس شان کے ساتھ داخل ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے تاریخ میں کہیں اس دور کا کوئی سایہ بھی نہیں دکھائی دیتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ، انفرادی طور پر احمدی خواتین نے بڑی قربانیاں دیں ہیں لیکن حضرت ام عمارہ کی اس غیر معمولی شان کو اپنی ذات میں زندہ کرنے والی اب ہزار ہا ام عمارہ پیدا ہو چکی ہیں اور ہر ملک میں پیدا ہو چکی ہیں۔اس پہلو سے اگر آپ لجنہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ یقیناً گواہی دیں گی کہ پہلے اور زمانے تھے، اور طرح کے اجلاس ہوا کرتے تھے۔لیکن