اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 476
خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات دوڑے ہوئے اس میدان کی طرف چلے آرہے تھے کہ پتہ تو کریں کہ کیا ہوا ہے۔ان میں ایک عورت بھی تھی ایک ایسی عورت جس کا خاوند اس جنگ میں شہید ہوا، جس کا بھائی اس میں شہید ہوا، جس کے اور بعض اقرباء اسی جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے۔اس نے جب میدان کی طرف آگے بڑھ رہی تھی کسی آنے والے سے پوچھا، بتاؤ کیا حال ہے؟ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ تو وہ سمجھا کہ اس کو پتہ نہیں اس کا خاوند شہید ہو گیا ہے اس نے کہا بی بی! مجھے بہت دکھ سے بتانا پڑتا ہے کہ تمہارے خاوند شہید ہو گئے ، میرے خاوند کو کون پوچھتا ہے! مجھے بتاؤ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ اس نے سمجھا کہ شاید اس کو یہ پتہ نہیں کہ اس کے بھائی بھی شہید ہو گئے ہیں۔بعض عورتوں کو خاوند سے پیار نہیں ہوتا، بھائیوں سے تو ہوتا ہے۔اس نے کہا بی بی ! بہت صدمے کی بات ہے تمہارے بھائی بھی شہید ہو گئے۔تو بے اختیاری سے پھر اس نے کہا بڑی زیادہ شدت کے ساتھ میں نے کب بھائیوں کا پوچھا ہے مجھے بتاؤ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا۔اب اس نے سمجھا کہ ماں کی مامتا ہے جو دراصل اس کو سبق سکھائے گی۔اس نے کہا اے بی بی ! تمہارے بیٹے بھی شہید ہو گئے ہیں۔اس نے کہا میں بیٹوں کا نہیں پوچھ رہی مجھے بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ یہ کہتے کہتے اس کی نظر ایک ایسے گروہ پر پڑی جس کے درمیان آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم چلے آرہے تھے۔دوڑتی ہوئی اس طرف گئی اور محبت کی نگاہیں ڈالتے ہوئے اس نے کہا۔اے میرے محبوب آقا! تو زندہ ہے تو ہر مصیبت مرگئی تو صحیح سلامت ہے تو ہر غم غائب اور زائل ہو چکا ہے۔غموں کی کوئی حقیقت مجھے دکھائی نہیں دیتی۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ اگر تمہیں خدا اور رسول سے اپنے ہر دوسرے رشتے سے زیادہ محبت نہیں ہے تو تمہیں پتہ نہیں کہ ایمان کی حلاوت ہوتی کیا ہے؟ پس محبت سے بڑھ کر طاقتور کوئی تربیت کرنے والا تربیت کر نہیں کر سکتا اور یہ وہ تربیت کدہ ہے جو خود اپنا دیوانہ بنادیتی ہے۔ہوش نہیں رہتی انسان کو اور تکلیفیں آسان ہونے لگتی ہیں یہ عجیب بات ہے کہ یہ وہ راہ ہے جو بظاہر بڑی مشکل ہے مگر سب سے آسان ہے، یہ راہ کی مشکلات کو حل کرنے والا جادو بھی محبت ہی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تو ایک موقعہ پر یہ فرمایا یا تحریر ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انبیاء بڑی مصیبت میں وقت گزار رہے ہیں۔ان کو کیا پستہ یہ تو عشق کی دنیا میں بسنے والے لوگ ہیں۔جو اپنے زور سے یا زبردستی کے نتیجے میں کچھ بھی خدا کی خاطر نہیں کر رہے وہ تو بے اختیار بندھے ہوئے لوگ ہیں۔بے ساختہ اللہ کی محبت ان کو کھینچے چلی جاتی ہے اور اس کے بعد کسی اور