اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 457
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۵۷ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء بندے ہیں کہ جب ان کی روحیں میرے حضور حاضر ہورہی ہوتی ہیں تو رَاضِيَةً مَّرْضِيَةٌ وہ مجھ سے راضی ہوتی ہیں میں ان سے راضی ہوتا ہوں اور میں انہیں آواز دے کر کہتا ہوں۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۲۸-۳۱) کہ اے میرے پاک بندے ! لوٹ آمیری طرف راضِيَةً مَرْضِيّةً اس حالت میں کہ تو مجھ سے خوش ہے اور میں تجھ سے خوش ہوں۔فَادْخُلِي فِي عِبدِی۔میرے بندوں میں داخل ہو جا وَ ادْخُلِي جَنَّتی اور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس کیا آپ پسند نہیں کریں گے اور کیا آپ پسند نہیں کریں گی کہ ہم میں سے ہر ایک کو مرتے وقت یہ آواز آئے کہ مجھ سے راضی ہوتے ہوئے میرے پاس آ۔ایسی حالت میں کہ میں تجھ سے راضی ہوں اور یہ آواز آپ نے بنانی ہے اس زندگی میں جو موت سے پہلے کی زندگی ہے اگر آپ یہ آواز نہیں بنا سکیں تو مرتے وقت آپ کو یہ آواز نہیں آئے گی۔راضیة کا مطلب یہ ہے کہ ساری عمر تو مجھ سے راضی رہا میرے احکام سے راضی رہا جو میں نے تجھ سے چاہا تو اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا رہا۔پس چونکہ زندگی بھر تو مجھ سے راضی رہا اب موت کے بعد وقت آگیا ہے کہ میں تجھ سے راضی رہوں اور ہمیشہ راضی رہوں۔پس اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کا انجام اس پیاری آواز کو سنتے ہوئے ہو کہ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۲۸-۳۱) کہ اے پیاری روح! جو میری طرف لوٹ کر آ رہی ہے اس حال میں میری طرف لوٹ کہ تو مجھ سے راضی ہو یا راضی رہی ہو ) اور میں تجھ سے راضی ہوں۔پس میرے بندوں میں داخل ہواور میری جنت میں داخل ہو۔اب جنتیں تو بہت سی ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رَاضَيَةٌ مَّرْضِيَةٌ ہیں۔ان کی جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت قرار دیا ہے۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری عمر وہ رضا کی خاطر زندہ رہیں اور جس رضا کی خاطر رہے اسی کا قرب ان کی جنت بنتا ہے۔پس میری جنت سے مراد یہ ہے کہ