اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 453
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۵۳ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء برقع کیسے اوڑھنا چاہئے ، کیسا لباس پہننا چاہئے ، آپ کو پردے کی روح سمجھا دوں اور آپ کو بتا دوں کہ آپ کے معاشرے کے لئے خود آپ کی اپنی خوشیوں کے لئے پردے کی روح کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔جب اس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے تو بعض بچیاں جواب تک کسی حد تک آزادی کے ماحول میں نکل چکی ہوتی ہیں ان پر اس قسم کی تقاریر اور اس قسم کے درس بہت گراں گزرتے ہیں بہت بوجھل محسوس کرتی ہیں۔اگر وہ بال خاص انداز کے کٹائے ہوئے ہیں تو مجلس میں بیٹھی اپنے آپ کو اجنبی سی محسوس کرتی ہیں کہ کس مصیبت میں پھنس گئیں۔اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ باتیں ہونی ہیں تو ہم آتیں ہی نہ یہاں۔جن عورتوں کو بعض اور قسم کے سنگھار پٹار کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے، دکھاوے کی عادت پڑ چکی ہے، اپنے جسم کی نمائش کی عادت پڑ چکی ہے ان پر بھی یہ باتیں بہت گراں گزرتی ہیں اور بڑی مصیبت سے دم سادھ کر وہ یہ وقت کاٹتی ہیں مگر میں آپ کو یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں خوب اچھی طرح آپ پر روشن کرنا چاہتا ہوں کہ یہ باتیں ہیں تو مشکل اس قسم کا معاشرہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چاہا ہے کہ آپ میں پیدا ہو بہت مشکل کام ہے آسان نہیں ہے وہ لوگ جو فیصلہ کرتے ہیں کہ ان باتوں کو کلیہ مان جائیں وہ اپنے دل پر ایک قسم کی موت وارد کر لیتے ہیں، ان کو شروع میں یہ لگتا ہے کہ یہ زندگی چلو ٹھیک ہے تو یہ تو موت کے مشابہ زندگی ہے جہاں کوئی بھی دلکشی باقی نہ رہے، کوئی بھی دل میں تموج نہ رہے ایک خاموش موت کے مشابہ مردہ کی سی زندگی لیکن اچھا اگر اللہ کا حکم ہے تو یہی سہی۔ان کے دل بجھ سے جاتے ہیں اور وہ مجھتی ہیں کہ اسلام ہے بڑا مشکل کام لیکن میں آپ کو ایک اور بات سمجھانا چاہتا ہوں اگر آپ وسیع نظر سے دیکھیں تو اس مشکل کی زندگی کے نتیجے میں دراصل آپ کے دل کی تسکین اور آخری آسائش ہے۔اس معاشرے کو قبول کرنا مشکل ہے اور شروع شروع میں بہت مصیبت دکھائی دیتی ہے مگر ان عورتوں کے لئے یا ان خواتین کے لئے جن کو آزاد معاشرے سے واسطہ پڑ چکا ہو اور اس کی ظاہری لذات سے متاثر ہو چکی ہوں۔وہ خواتین جو مختلف پس منظر میں جوان ہوئیں ہیں جن کو شروع ہی سے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے جن کو شروع ہی سے عصمت کی قدرو قیمت کا احساس دلایا گیا ہے ان کے ہاں یہ مضمون اُکسانیت کا موجب نہیں بنتا بلکہ عین ان کے دل کے مطابق ہے۔ان کو اگر یہ کہا جائے کہ کھلے بندوں پھرو اور ہر قسم کے کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصے لو۔اپنے بال کٹاؤ اپنی نمائش کرو تو ان کے لئے وہ عذاب محسوس ہوگا۔مصیبت پڑ جائے گی کہ یہ کیا تعلیم ہے؟ پس یا درکھیں موسم کے مطابق باتیں ہوا کرتی ہیں۔آپ کو یہ تعلیم