اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 450

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۵۰ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء بے حیا نظروں سے اور بہترین پردہ ہے اور نظر کو سلیقہ اور ادب سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی حیا ہے۔پس مردوں پر بھی لازم ہے کہ وہ حیا کریں، عورتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ حیا کریں اور اگر حیا ہوتو پھر یہ ظاہری پر دے پر اتنا زیادہ زور دینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی مگر جب تک حیا نہ ہو اس وقت تک تو یہ لازم ہے، اس وقت تک ہم اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اُس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں 66 گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔“ پھر فرماتے ہیں۔وو ( ملفوظات جلد چهارم صفحه ۱۰۴) مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔(حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے دوبار یہ جملہ دہرایا ) نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنارکھا ہے پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۰۴) پس جہاں تک خواتین کے حیاء سیکھنے اور سکھانے کا تعلق ہے۔میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اپنے مردوں کو بھی حیا سکھائیں کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ آج کل کے معاشرتی دور میں یا آج کل کے معاشرتی اور تمدنی دور میں بہت بڑی ذمہ داری بلکہ اکثر ذمہ داری مردوں کی بے حیائی پر ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صحیح مرض کی نشاندہی فرمائی اور صحیح جگہ انگلی رکھی۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قد رقوت ہو کہ وہ اپنی نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہوسکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔“