اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 446 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 446

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۴۶ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء حیاہی ہوگا جو ایسے موقع پر مردوں سے الگ ہو کر پھر اس نیک کام سے محروم رہ جائے جو اس وقت کا بہترین کام ہے۔یعنی جب جنگ کا دور ہو، جہاد ہو رہا ہو اور لوگ جانیں دے رہے ہوں اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں حیاء کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا اس لئے بعض جگہ پیچھے ہٹنا حیاء کا موجب نہیں بلکہ بے حیائی کی وجہ ہوتی ہے۔پس موقع اور محل کے مطابق ان باتوں کے معنوں کو سمجھنا چاہئے لیکن اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اپنے بچوں کو بزدل نہ بنائیں۔حیاء کے بہانے ان کو ایسا نہ بنادیں کہ ہر وہ کام جہاں ان کو آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہئے اس سے وہ پیچھے ہٹ جائیں۔یہ حیاء نہیں ہوگی بلکہ نقائص ہیں یہ اور ان کا کوئی بھی نام رکھیں یہ حیاء نہیں ہے۔مگر اچھی باتوں میں حیاء اور بری باتوں سے حیاء یہ باتیں اگر آج ہماری مائیں اپنے کل کے بچوں میں پیدا کر دیں تو آئندہ نسلوں پر بہت بڑا احسان ہوگا۔بہت سے جھگڑے ہمارے جو پر دے کے ہیں وہ اٹھ جائیں گے۔مجھ سے بہت سے خاندان ملنے آتے ہیں، فیملی ملاقات اب ایک عام محاورہ بن گیا ہے اور بہت بڑا وقت میرا ان ملاقاتوں میں لندن میں بھی خرچ ہوتا ہے باہر بھی ، وہاں بعض خاندانوں کی خواتین کے متعلق مجھے یہ پوچھنا نہیں پڑتا کہ وہ پردہ کرتی ہیں کہ نہیں ، برقع ہماری طرز کا لیتی ہیں کہ نہیں، ان کے چہروں میں متانت دکھائی دیتی ہے،ان میں وقار نظر آتا ہے اور مجھے کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی مگر بعض بچیاں اپنی اداؤں کے ساتھ مجھے فکر مند کر دیتی ہیں۔ان کے بالوں کے کٹنے کے انداز ، ان کا اپنے آپ کو ابھار کر پیش کرنا بعض دفعہ میں حیران ہو جاتا ہوں دس گیارہ سال کی لڑکی ہے اور بغیر شرم کے اچانک اپنا ہاتھ آگے مصافحہ کے لئے بڑھاتی ہے اور بعض جگہ اسی عمر کی بچیاں شرما جاتی ہیں۔مجھے جو ایسی بچیاں ہوں خواہ پر دے کا بظاہر حکم ان پر نہ بھی آیا ہوان کی ادائیں مجھے بتاتی ہیں کہ قابل فکر ہیں۔یہ دوسروں کے معاشرے سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو چکی ہیں اور یہ جو اس وقت کی شوخی ہے یہ کل کی بے حیائی بن سکتی ہے۔پس بچپن ہی سے حیاء کا خیال کریں اور حیاء کی حفاظت کریں۔یہاں جو یہ رواج ہے کہ لڑکیاں لڑکوں سے مصافحے کرتی ہیں بعض دفعہ ایسی صورت ہوتی ہے کہ چونکہ اس معاشرے کے حالات مختلف ہیں۔ایک ڈاکٹر نے ہاتھ بڑھا دیا مصافحے کے لئے ایک عورت اس وقت مجبور ہوتی ہے۔وہ بجھتی ہے کہ اس وقت ہاتھ نہ بڑھانا نقصان دہ ہوسکتا ہے اس پر اسلام کا برا اثر نہ پڑے تو اپنی بے عزتی تو ضرور محسوس کرے گا۔ایسی صورت میں اگر پہلے تنبیہ نہ کی گئی ہو تو بعض مجبوری کے طور پر محض سرسری سا ہاتھ دے کر اسے کھینچ لیتی ہیں اور محسوس کرتی ہیں کہ اچھا نہیں