اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 442
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۴۲ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء بھی زیور ہے کہ عورت کے طبعی اور فطری حسن کا حیاء سے تعلق ہے۔حسن کا دکھاوا اس کی نمائش تو منع ہے لیکن حسن تو اللہ کو پسند ہے اور ہر عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ حسین ہو اور حقیقت یہ ہے کہ حسن کا حیاء سے ایک بہت گہرا تعلق ہے۔جس عورت کی حیاء اڑنی شروع ہو جائے یا درکھیں اس کا حسن اڑنا شروع ہو جاتا ہے وہ پھول جس سے رنگت اڑ جائے ، وہ پھول جس کی خوشبو اس سے باغی ہو جائے ، اس پھول کا چہرہ بالکل بے رونق اور بے حقیقت سا دکھائی دینے لگتا ہے۔پس حسن کا حیاء سے ایک بہت گہرا تعلق ہے خصوصاً عورت کے اندر جو اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر حسن کی ادائیں رکھی ہیں یا حسن کی باتیں رکھی ہیں ان میں حیاء ایسے ہی ہے جیسے کہ میں نے بیان کیا کہ پھول کی خوشبو اور پھول کی رنگت ہو۔پس آپ گردو پیش میں نگاہ ڈال کر دیکھ لیں۔آپ میں سے ہر ایک کا دل گواہی دے گا کہ وہ عورت جس کی حیاء اٹھتی ہے۔خواہ دوسرے معنوں میں بے حیاء نہ بھی ہو مگر روز مرہ کی بعض باتوں کے نتیجے میں حیاء کچھ اٹھتی جاتی ہے اس کا حسن بھی اسی حد تک اُڑتا جاتا ہے اور اُسی حد تک اس میں ایک کشش کم ہوتی جاتی ہے۔آپ نے نئی دلہن کا چہرہ بھی دیکھا ہوا ہے وہی لڑکی ہے جو پہلے اسی طرح آپ کے سامنے پھرتی تھی لیکن جب نئی دلہن بن کے آتی ہے تو اس کے حسن میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے وہ کیا وجہ ہے؟ اس لئے کہ نئی دلہن ہمارے معاشرے میں شرماتی ہے اور اگر نہ شرمائے اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہر طرف دیکھے تو کسی کو بھی اس کا چہرہ پسند نہیں آتا اس لئے حیاء کا اس سے بہت گہرا تعلق ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے حیائی ہر مر تکب کو بدنما بنا دیتی ہے۔“ یہاں عورت کی بات نہیں ہے ہر کرنے والے کو فرمایا۔جو بھی وجود جو بھی شخص مرد ہو یا عورت بے حیاء ہوتا چلا جائے وہ اسی حد تک بدنما ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھیں ہوں گے جو بے ہودہ کاروبار میں پڑے ہوتے ہیں، گندے کاروبار میں ان کا چہرہ دیکھیں اس سے شدید قسم کی انسان کو نفرت پیدا ہوتی ہے وہ دھکے دیتا ہے۔رشوت بری بات ہے لیکن کچھ لوگ شرما کر رشوت لیتے ہیں۔ابھی تازہ تازہ راشی بنے ہوتے ہیں ان کے چہروں پر وہ بھیا نک پن نہیں آتا لیکن جو پکے رشوت کے عادی بن چکے ہیں ان کا چہرہ ایسا منحوس ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہی انسان کو دھکے دیتا ہے مسخ ہو چکا ہوتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کے مضمون کو صرف عورت سے نہیں باندھا بلکہ مرد اور