اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 441
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۴۱ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء اور قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے لیکن فی الحقیقت جہاں تک اس کی روح ، اس کا دماغ ، اس کا دل ہے وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر دوسری قوم کے ہو چکے ہیں۔ایک تو یہ سیدھا سادہ نفسیاتی پیغام ہے دوسرا اس میں پیغام یہ ہے کہ اس کا انجام ان جیسا ہی ہوگا اگر چہ اس کا پس منظر اسلامی ہو۔مسلمانوں میں پیدا ہوا ہو لیکن اگر اسلام کے خلاف روایات اختیار کرلے اور ان غیر اسلامی روایات میں دوسری قوموں کی نقل کرے گا وہ تو اس سے خدا تعالیٰ کا سلوک وہی ہوگا جیسا غیر مسلموں سے جو عمداً بد ارادوں کے ساتھ بعض اعمال اختیار کرتے ہیں، اللہ کا سلوک ہوگا۔حضرت زید بن طلحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دین اور مذہب کا اپنا ایک خاص خلق ہوتا ہے اور اسلام کا یہ خلق حیاء ہے۔ہر مذہب کی ایک بنیادی روح ہے اور وہ روح اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی بات نہیں کی کیونکہ بنیادی طور پر تمام الہی مذاہب جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والے مذاہب ہیں ان کی تعلیم ایک ہی طرح کی ہے۔بنیادی طور پر تفاصیل میں فرق ہے لیکن زور کس بات پر ہے اس کی روح کیا ہے؟ جب اس کی بات کرتے ہیں تو ہر مذہب کی ایک روح نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتی ہے۔مثلاً لوگ کہتے ہیں یہودیت کی روح بدلہ لینا ہے، عیسائیت کی روح بخشنا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی روح حیاء ہے اور حیاء نہ رہے تو کچھ بھی نہیں رہتا۔پس یادرکھیں کہ حیاء کا جہاں تک تعلق ہے یہ صرف عورت کا زیور نہیں یہ مردوں کا بھی زیور ہے اور مردوں اور عورتوں دونوں میں برابر کی چیز ہے۔بعض دفعہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حیاء کرنا عورت کا کام ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں میں برابر کا خُلق ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیاء کو اسلام کا خُلق قرار نہ دیتے بلکہ خواتین سے متعلق تعلیم کے طور پر اسے پیش کرتے۔بعض صحابہ میں غیر معمولی حیاء پائی جاتی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر حال میں پسند فرماتے تھے۔حضرت عثمان سے متعلق آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے صحابہ تھے ان سب سے زیادہ حیاء حضرت عثمان میں پائی جاتی تھی۔یہاں تک کہ اگر مجلس میں آپ کی پنڈلی سے بھی کپڑا اُٹھ جاتا تھا اور اچانک آپ کو معلوم ہوتا تھا کہ میری پنڈلی تنگی ہے تو شرما کر فوری طور پر چادر کھینچ کر اپنی پنڈلی چھپالیا کرتے تھے۔تو حیاء مردوں کا بھی زیور ہے اور عورتوں کا بھی لیکن عورتوں کا ان معنوں میں