اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 327

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات ۳۲۷ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء جو ضلع ملتان کے رہنے والے ہیں تو اس پر حضور فرماتے ہیں میں اُن کو جانتا ہوں ان کی عمر اس وقت پچاس پچپن سال ہے۔خدا کے فضل سے یہ آج بھی زندہ ہیں اور بقائمی ہوش وحواس ہیں۔مجھ سے خط و کتابت بھی ہے اور یہ اس سارے واقعہ کے گواہ موجود ہیں۔صو بیدار بدر عالم صاحب اعوان کی بیٹی نصرت صاحبہ تحریر کرتی ہیں۔آج سے تقریباً چھ سال قبل غالبا سن ۷۴ء میں (مہینہ یاد نہیں) ایک رات نفل پڑھنے کے بعد سوئی تو خواب میں دیکھا کہ میں نے کسی بڑی دعوت کا انتظام کیا ہے اور میں بے شمار مہمانوں کی آمد کا انتظار کر رہی ہوں اس ہجوم میں حضرت خلیفۃ أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضور کی حرم محترم حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بھی ہمراہ ہیں۔حضور مجھ سے فرماتے ہیں۔آج ہم آپ سب میں موجود ہیں آپ کے بلانے پر ہم آئے ہیں مگر پھر شاید ہم ایسا اب جس طرح آپ کے گھر آئے ہیں پھر نہ آسکیں گے دوبارہ موقع نہ ملے گا۔‘ میں نے شرارت سے کہا ( یعنی پیار کے رنگ میں شرارت مراد ہے ) ”اے ہمارے پیارے والد آپ نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کچھ دیر میری طرف دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا ”طاہر اس کے آگے حضور کچھ نہ بولے۔پھر حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدھانے فرمایا۔”میں پہلے ہی اس جہان میں نہ رہوں گی۔پس محض ایک بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی انسان سمجھے کہ شاید خیال اور تصور کی بات ہو۔دوسری پختہ نشانی بھی پہلے ہی سن ۷۴ء میں آپ کے سامنے خدا تعالیٰ نے کھول کر رکھ دی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے وصال کا جو ذکر ہے اس سے پہلے ہی حضرت سید ہ منصورہ بیگم صاحبہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہوں گی۔نعیمہ بیگم صاحب حمید احمد رانا صاحب کی اہلیہ ہیں، دیکھتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھا نالعنتیوں کا کام ہے۔یہ خواب بیان کرتی ہوں کہ آج سے ۴ سال قبل یہ ۲ اگست ۱۹۸۲ء کو روی لکھی ، یعنی ۱۹۷۸ء کو ان کی رؤیا ہوگی۔۱۹۷۸ء میں عاجزہ نے خواب میں دیکھا کہ شہر سرگودھا میں احمدیوں کے خلاف کوئی جھگڑا ہورہا ہے ایک شخص جس کو میں نہیں جانتی اس کی آواز آتی ہے۔کہ ”میاں طاہر احمد کہاں ہیں۔کسی دوسرے نے ، اس کو بھی میں نہیں جانتی جواب میں کہا کہ وہ تو سیالکوٹ میں ہیں اگر وہ یہاں ہوتے تو جماعت کی خاطر جان لڑا دیتے اس کے بعد ایک اور آواز آئی کہ اچھا ہے وہ یہاں نہیں ہیں۔اگر وہ یہاں ہوتے تو شاید انہیں کوئی نقصان پہنچ جاتا ان کا وجود بہت قیمتی ہے کیونکہ انہوں نے خلیفہ ثالث کے بعد خلیفہ بنا ہے۔۱۹۷۴ء کے فسادات کی بات ہے اور واقعہ