اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 295
حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات ۲۹۵ سامنے رکھتا ہوں۔خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء ایک ماں نے میرے پاس دس ہزار روپے بھیجے۔وہ بھتی ہے کہ میرے پاس بیٹی کے زیور کے۔لئے دس ہزار روپے جمع تھے جو سنار کو دئے ہوئے تھے کہ زیور خرید لوں لیکن یہ خطبہ سن کر دل نے فیصلہ کیا کہ جب میرا خدا بیٹی کے لئے ساتھی دے گا تو زندہ خدا اس کو زیور بھی دے دے گا۔آج میرے خلیفہ کو ضرورت ہے چنانچہ وہ پیسے سنار کودئے ہوئے واپس لے کر اس یورپین مشن کے چندے میں بھیج دئے۔ایک اور عورت سھتی ہے۔میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنا زیور کا سیٹ مبلغ چار ہزار روپے میں فروخت کیا تھا اور خیال تھا کہ کچھ اور رقم شامل کر کے ذرا بھاری سیٹ بنواؤں گی تاکہ بچیوں کے کام آسکے۔لیکن بچیوں کے لئے اللہ کوئی اور انتظام کر دے گا اب زیور بنوانے کی کوئی خواہش نہیں رہی میری طرف سے یورپ مشنز کے لئے یہ حقیر رقم قبول فرما ئیں۔ایک واقف زندگی کی بیگم نے لکھا۔اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں اس قربانی کے موقع پر حاضری دوں اور قرآن مجید کے حکم لن تنالوا البر حتى تنفقو مما تحبون ( آل عمران :۹۲) کے مطابق یعنی تم ہرگز نیکی کونہیں پا سکو گے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہو جوتمہیں پیارا ہو۔کہتی ہیں کہ اس آیت کے تابع میں نے سوچا کہ جو چیز مجھے اپنی ملکیت کی چیزوں میں سے سب سے زیادہ پیاری ہے وہ پیش کروں تو میں نے دیکھا کہ میرے گلے کا ہار جو سب زیوروں میں سے زیادہ بھاری ہے ، وہی مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔پس میں یہ ہار یورپ کے مشن کے لئے پیش کرتی ہوں۔پھر لکھتی ہیں کیوں اس وقت تو اسلام کی ترقی اور عظمت ہی ہمارے گھر کا اصل ہار ہے۔اور اصل زینت کا باعث یہی ہے۔اس لئے مجھے یہی اسلام کی زینت زیادہ پیاری ہے۔ایک صاحبہ بھتی ہیں اپنی بچی کے متعلق کہ میری ایک بیٹی جس کی عمر تقریباً ۵ سال ہے اس کے کانوں میں صرف دو بالیاں تھیں اور ناک ڈالنے والے دوکو کے تھے وہ بے قرار ر ہوگئی اور اتار کر دے دئے اور کہنے لگی کہ ابا جان یہ میرے آقا کے حضور پیش کر دیں اور اس جذبے سے اس نے کہا کہ باپ بھی اسکا انکار نہیں کر سکا اور اسی طرح مجھے بھجوادئے۔بعض واقفین زندگی دین کی خدمت کرنے والے ایسے تھے جن کی خواتین کے پاس کچھ بھی نہیں تھا پیش کرنے کے لئے۔تو انہوں نے اپنے بچے پیش کئے۔اور جو وقف نو کی تحریک ہے یہ بعد میں چلی ہے بعض عورتوں نے اس سے بہت پہلے اس وجہ سے کہ ہمارے پاس کچھ دینے کے لئے نہیں ہے