اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 274

حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۷۴ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء ٹکٹ بھیجنے کی توفیق نہیں تھی۔آج جماعت کو جس حال میں دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا میں اب تو ۲۶ ممالک سے بھی بڑھ گئے ہیں جہاں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا پیغام تمام دنیا میں زمین کے کناروں تک پہنچا ہوا دکھائی دیتی ہے۔ان کے پیچھے جن عظیم خواتین نے قربانیاں پیش کی ہیں اور اس فصل کی آبیاری کی ہے ان کا بھی کبھی کبھی ذکر چلتے رہنا چاہئے تا کہ آئندہ نسلیں ہمیشہ ان پر سلام اور درود بھیجتی رہیں۔مکرم مولوی رحمت علی صاحب مرحوم یہ متفرق اوقات میں ۲۲ سال باہر رہے اور ان کی بیوی نے یہ دن عملاً بیوگی کی حالت میں کاٹے۔زیادہ تر جاو اسماٹرا وغیرہ میں گزرا۔ان کے ایک بچے کے متعلق حضرت مصلح موعوددؓ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی ماں سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کے ابا آتے ہیں۔چیزیں لے کر آتے ہیں۔ہمارے ابا کہاں ہیں۔کہاں چلے گئے ہیں۔تو بیوی آبدیدہ ہو جایا کرتی تھیں۔منہ سے تو بول نہیں سکتی تھیں۔جس طرف وہ بجھتی تھیں کہ انڈونیشیا ہے اس طرف انگلی اٹھادیا کرتی تھیں کہ تمہارے ابا خدا کے دین کی خدمت کے لئے وہاں گئے ہیں اور قربانی کے لحاظ سے ایسی عظیم خاتون تھیں کہ جب بالآخر حضرت مصلح موعود نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کو بلا لیا جائے۔کم سے کم دونوں کا بڑھا پا تو اکٹھا گزرے تو یہ احتجاج کرتی ہوئی حضرت فضل عمر کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا آپ میری قربانیوں کو ضائع نہ کریں۔جو عمر ہماری اکٹھے رہنے کی تھی وہ تو ہم نے علیحدگی میں گزار دی اب اس پر موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ مجھ سے علیحدہ ہو اور خدا کے حضور میری یہ قربانی کومقبول ہو۔کیا کیا احمدی عورتوں نے سنہری حروف میں احمدیت کی کیا کیا تاریخ سجار کھی ہے۔یہ وہ زیور ہے جس سے بڑھ کر حسین زیور اور کوئی زیور نہیں ہے۔جو دنیا کو دکھائی دینے والے زیور ہیں اور میک اپ ہیں ان کی تو کوئی بھی حیثیت نہیں ان خوشنماز یوروں کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں جو تمام قوم کی تاریخ کو سجا دیا کرتے ہیں۔اور ہمیشہ ہمیش کے لئے اسے رنگین بنا دیتے ہیں۔آمنه خاتون اہلیہ نذیر احمد صاحب مبشر کا ذکر گزر چکا ہے۔حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کی اہلیہ کا ذکر گذر چکا ہے۔نصرت جہاں اہلیہ مولوی امام الدین صاحب مرحوم ابھی زندہ ہیں اور کافی بیمار ہیں، کمزور ہو چکی ہیں۔ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔انہوں نے بھی متفرق اوقات میں ۲۰ سال اپنے خاوند سے علیحدہ گزارے ہیں اور ان کی اولاد بھی اپنے والد کو بہت کم جانتی تھی۔زیادہ تر وہ انڈونیشیا میں رہے ہیں۔مکرمہ بیگم صاحبہ اہلیہ قریشی محمد افضل صاحب یہ خدا کے فضل کے ساتھ ایسی صابرہ خاتون ہیں