اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 259
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۵۹ خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۹۱ء رپورٹوں کی ترسیل اور مضمون نگاری سے اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ واقعتہ ان باتوں پر عمل کیا گیا ہے یا نہیں۔میں آخری اعداد و شمار کی صورت میں دیکھتا ہوں کہ کیا واقعہ کچھ پیدا ہوا یا وہی پہلے والا حال ہے اس نقطہ نگاہ سے میں ایک مثال آپکے سامنے رکھتا ہوں کہ علمی اور تربیتی لحاظ سے جو پروگرام دیئے گئے ہیں ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ ہندوستان نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں۔جہاں تک تربیت کا تعلق ہے قرآن کریم ناظرہ جاننے والی، بھارت میں، احمدی خواتین کی تعداد ۲۸۱۹ تھی۔اس ایک سال میں آپ اندازہ کریں کہ کتنی لمبی اور تفصیلی محنت سے کام لیا گیا ہوگا کہ اب یہ تعداد بڑھ کر ۳۳۵۲ ہو چکی ہے۔ایک سال کے عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی زیادہ خواتین کو جو پہلے قرآن نہیں جانتی تھیں قرآن سکھانا ایک بہت ہی عظیم سعادت ہے اور یہ وہ دوسرا پہلو ہے جنت بنانے کا۔پہلا پہلو تھا منفی اثرات سے اپنی اولاد کو بچانا۔دوسرا پہلو ہے مثبت باتیں ایسی عطا کرنا جن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کے مستقبل کی حفاظت ہوگی اور وہ یہ طریق ہے کہ بچپن ہی صلى الله سے قرآن کریم کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے دل میں پیدا کریں۔خدا تعالیٰ کا گہرا پیار ان کے دل میں جاگزیں کر دیں کیونکہ اسی کے پیار سے پھر باقی سب پیار پھوٹتے ہیں۔خدا سے سچا پیار ہو تو ہر خدا والے سے پیار ہو جاتا ہے۔خدا والوں سے پیار ہوتو ان کی عادات اپنانا ، ایک زندگی کا بہترین مشغلہ بن جاتا ہے پس ٹھوس تربیت کا مطلب محض نیک نصیحت کرنا نہیں بلکہ عملاً کچھ پیدا کر کے دکھانا چاہئے۔پس وہ احمدی خواتین جن کے گھر میں قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کی عادت نہیں اس پہلو سے وہ گھر ویران ہیں اور آئندہ وہ ویران نسلیں پیدا کریں گی۔معاشرے کی بدیاں نہ بھی ان میں پائی جائیں وہ بچے ایک خلا پلیکر اٹھیں گے اور خلاؤں کو اگر آپ نے خوبیوں سے نہ بھرا ہوتو بعد میں بدیاں ان خلاؤں کو بھر دیا کرتی ہیں ایسے بچے محفوظ نہیں ہیں۔جہاں تک آپ کے گھر میں پکے مان لیا کہ ان کو آپ نے کوئی برائی نہ دی ، برائی اور ان کی راہ میں حائل رہیں لیکن اگر ٹھوس نیکیاں اور ٹھوس خوبیاں ان کو عطا نہ کیں تب بھی ان کی آئندہ حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔پس ایسے کام ہیں جن کی مجھے لجنہ سے توقعات ہیں بچپن ہی سے قرآن کریم کی تلاوت کی آوازان کے کانوں میں گونجنی چاہئے۔وہ ایسی ماؤں کی گود میں پلیں جن کو خدا سے محبت ہو، خدا والوں سے محبت ہو۔وہ بچپن میں ایسے ذکر ان سے کرتی چلی جائیں۔یہ وہ اولاد ہے جو لازماً اپنی ماؤں کے پاؤں تلے سے جنت حاصل کر لے گی۔