اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 255

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۵۵ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء بھی تعلق ہے اور مرد سے بھی تعلق ہے۔بعض دفعہ عورتیں جن کے پاؤں تلے جنت ہونی چاہئے بد نصیب مردان کے پاؤں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ذمہ داری عورت پر نہیں ہوتی بلکہ ان بدنصیب مردوں پر ہوتی ہے جن کی اولاد ماؤں سے جنت حاصل کرنے کی بجائے جہنم حاصل کر لیتی ہے۔وہ شخص وہ لوگ ہیں جو گھروں میں بد خلقی اور بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ان کو اپنی بیویوں کے نازک جذبات کا احساس نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہیں جسمانی طاقت زیادہ حاصل ہے اس لئے وہ جس طرح چاہیں اپنی بیویوں سے سلوک کریں باتوں میں انکی تلخی پائی جاتی ہے، غصہ پایا جاتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جانا اور غصے کا اظہار کرنا۔اس کے نتیجہ میں اتنی خرابیاں رونما ہوتی ہیں کہ اگر آپ ان کا تنجس کریں ان کے پیچھے چلیں تو بہت بڑا مضمون ہے جو آپ کے سامنے ابھرے گا۔میں نے ان باتوں پر بار ہا غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ روز مرہ کی گھر کی بدخلقیاں ہمارے معاشرہ کی اکثر خرابیوں کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔جن خاوندوں کا بیویوں کے ساتھ حسن واحسان کا تعلق نہ ہوان کے نازک جذبات کا احساس نہ ہوا گر کبھی زیادتی بھی ہو جائے تو حوصلہ سے کام نہ لے سکیں وہ بھی اپنی اولاد کیلئے ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ایسے مرد بھی ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں جو ماؤں کی بے راہ روی کو بغیر اظہار افسوس کے قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔پس ماں اور باپ کے تعلق کے توازن ہیں جو آئندہ نسلوں کے بنانے یا بگاڑ نے کا فیصلہ کرتے ہیں۔جن گھروں میں مائیں مظلوم ہوں جب باپ ان گھروں سے چلے جاتے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کے کانوں میں ان باپوں کے خلاف باتیں بھرتی چلی جاتی ہیں اور یہ ایک ایسا طبعی قانون ہے جو تمام دنیا میں رائج ہے۔ایسی نسل پیدا ہوتی ہے جو باپ کی باغی ہوتی ہے اور باغی نسلیں پھر ہر نظم وضبط کی ہر نظام کی باغی ہو جایا کرتی ہیں۔مائیں سمجھتی ہیں کہ ہم نے باپ سے زیادہ اپنی اولاد کی ہمدردی حاصل کر کے اپنا بدلا اتارا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا بدلا نہیں اتارر ہیں بلکہ اولا دکو برباد کر رہی ہیں اور آئندہ کیلئے اسے کسی کام کا نہیں چھوڑتیں۔وہ اولاد جو باپ کے خلاف چاہے جائز شکایات بھی ہوں بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے لگ جاتی ہیں اسے مذہب کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی ، معاشرے کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی۔اس کا احترام بالعموم اٹھ جاتا ہے اور ایک باغی طرز کے مزاج کے لوگ پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں اب ان باتوں کو مزید بڑھا کر دیکھیں، یہی مرد ہیں جو آئندہ کسی کے خاوند بننے والے ہیں ، آئندہ عورتوں سے تعلق قائم کرنے والے ہیں تو اس ماں نے در حقیقت اپنا بدلا خاوند سے نہیں اتارا بلکہ آنے