اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 243
حضرت خلیفہ امسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۴۳ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء والی نسلوں سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے۔آنحضرت ﷺ کا انداز نصیحت سیکھیں اور اس انداز نصیحت کو اپنالیں اور حرز جان بنالیں، اپنی جان سے زیادہ اپنی روح سے زیادہ عزیز رکھیں۔پھر خدا تعالیٰ آپ کے اندر ایک عظیم الشان قوت پیدا فرمائے گا جو اثر رکھتی ہوگی جو دلوں کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتی ہوگی۔وہ مائیں جو یہ شکایت کرتی ہیں کہ ہماری اولاد بڑی ہوگئی، جرمن ماحول میں یہ ہو گیا ان کے ساتھ ، امریکن ماحول میں یہ ہو گیا، ہماری پیش نہیں جاتی ، ان کی آنکھیں بدل گئیں۔وہ یہ سوچتی نہیں کہ آغاز انہیں کی طرف سے ہوا ہے۔ابتداء ہی سے جب یہ آنکھیں بدلنے لگی تھیں اس ماں کے دل میں وہ در دنہیں پیدا ہوا جو بچے پر گہرا اثر پیدا کرسکتا تھا۔اگر وہ پیدا ہوجاتا اس وقت تو کبھی بچہ وہ منزلیں طے نہ کرتا۔جن منزلوں کو طے کرنے کے بعد پھر ماں کی آواز بھی اس کو سنائی نہیں دیتی ، وہ ماں کے در دکو دیکھ بھی نہیں سکتا۔ایسی ہی کیفیت ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے صُمّ بُـكـم عـمـى فَهُم لا يَرجِعُونَ اب تو یہ لوگ بہرے ہو گئے، اندھے ہو گئے ، گونکے ہو گئے ،اب تو نہیں لوٹیں گے۔اب تو نکل گئے ہاتھ سے اس وقت کیوں روتے ہو جب ابھی کانوں میں قوت شنوائی موجود تھی۔جب آنکھوں میں بصارت تھی بصیرت تھی اس وقت اُن کو دکھانا چاہئے تھا۔اس وقت اپنا غم ان کو دکھاتے ، اس وقت اپنے دل کی روئیداد ان کو سناتے تو ضرور اثر پڑتا لیکن اب جبکہ وہ ان نوروں سے بے بہرہ ہو چکے ہیں اب تمہاری آواز اُن کو سنائی نہیں دے گی۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا جس کو آنحضرت ﷺ نے مختلف رنگ میں ہم پر روشن فرمایا جس کو ہم بار بار بھول جاتے ہیں اور بار بار اس کے دکھ اُٹھاتے ہیں اس لئے وہ مائیں جو سچے دل سے اپنی اولاد کی بھلائی چاہتی ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ ان کی غلطی پر ڈانٹیں ڈپٹیں نہیں مارنا شروع کریں اپنا غصہ ان معصوموں پر نہ نکالیں اپنے در دکوان پر برسائیں اپنے درد کو سجدوں میں برسائیں وہ دل کا درد ہے جو عظیم انقلاب پیدا کر دیا کرتا ہے اس کی طاقت کے سامنے کوئی دنیا کی دوسری طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔اس لئے آنحضرت مہ کو رحمۃ للعالمین قرار دیا گیا اور کسی نبی کو کیوں نہ یہ لقب عطا فرمایا اس لئے کہ تمام جہانوں کے لئے سب سے زیادہ در د حضرت محمد رسول اللہ کے دل میں تھا تبھی آپ رحمت بن سکتے تھے۔اگر درد نہ ہوتا اور خشک نصیحت ہوتی تو ساری دنیا کے لئے ایک زحمت بن جاتے۔ملاں اور خشک ناصح کی تو باتوں سے ہی انسان گھبرا تا ہے ،نفرت کرتا ہے، کہتا ہے جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے اپنی نصیحتیں لے جاؤ ہم پر کوئی اثر نہیں کرتیں لیکن صاحب دل کی نصیحت کا اور اثر ہوا کرتا ہے تو وہ ماں ہو جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ماں سے بھی بڑھ