اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 236
حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۳۶ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء اور یہ بھول گئے کہ وہ خود امیر کا ادب نہیں کر رہے اور امیر کی اجازت کے بغیر یہ حرکت کر رہے ہیں اور خلافت کے احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ تقریر کر رہے ہیں۔اُن کا یہ کام نہیں تھا اس قسم کے لفظ بولتے ان کا فرض تھا ادب سے امیر کو توجہ دلاتے اور بعد میں جو واقعہ رونما ہوا مجلس عاملہ میں وہ سراسر اُس نصیحت کے بالکل برعکس تھا جو وہ خود صدر لجنہ کو کر رہے تھے۔تو اس لئے وہ خود بھی ایک غلط طریقہ کا راختیار کرنے کے نتیجہ میں مور دسزا ٹھہرے اور یہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ ایک نائب امیر اور پھر اتنا پرانا تربیت یافتہ مربی ہو اس کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کی حرکت کرے لیکن صدر لجنہ ہو اور اس قسم کی باتیں وہاں مجلس شوریٰ میں کر رہی ہو جس کے متعلق اس کو اختیار نہیں جس کے متعلق عجز کے انکسار کا تقاضا تھا کہ ایسی تلخ زبان میں مخلصین جماعت کے دلوں کو مجروح نہ کرے انہوں نے کام لیا۔تو اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا مجھ پر جو اثر چلا آرہا تھا وہ درست تھا۔جو کھلم کھلا مجلس شوریٰ میں ایسی باتیں کر سکتا ہے وہ اپنے ماحول میں، اپنے محلوں میں جاتے ہوئے پتہ نہیں کیا کیا با تیں تلخ کہہ دیتا ہوگا اور کس کس طرح بیچاری احمدی بچیوں کے دل مجروح ہوتے ہوں گے۔ان میں غلطیاں ضرور ہوں گی ، ماؤں میں بھی غلطیاں ہوگی لیکن کہنے کے انداز میں فرق ہوا کرتا ہے اگر کوئی اس طرح بات کرے کہ محسوس ہو کہ اس کا دل دکھ گیا ہے اور پیار اور محبت سے نصیحت کرے اُس پر اور اثر ہوتا ہے اور کوئی اس طرح جس طرح کہ تنقید کی گئی تنقید کرے اگر بات سچی بھی ہو تو انسان اس کو قبول نہیں کرتا۔خدا کے رستوں کے فقیر بارہا میں نے سمجھانے کی کوشش کی ہے پتہ نہیں کیوں کون سی میں زبان بولتا ہوں جو آپ کو سمجھ میں نہیں آتی یا بعضوں کو آتی ہے اور بہت سے سمجھے بغیر رہ جاتے ہیں کہ نصیحت کرنی ہو تو درد اور دکھ سے کیا کریں اور سلیقے سے کیا کریں۔بات اس رنگ میں کرنی چاہئے کہ دل سے نکلے اور دل پر اثر انداز ہو اور وہی بات اثر انداز ہوا کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔دماغ سے نکلی ہوئی باتیں اثر انداز نہیں ہوا کرتیں۔دماغ پر تو اثر کر لیتی ہیں دل پر نہیں کرتیں اور تربیت کا تعلق دل کی باتوں سے ہے۔دماغ مسائل سمجھاتا ہے مگر دلوں کو محبتیں بدلا کرتی ہیں، دلوں کو پیار تبدیل کیا کرتے ہیں ورنہ خشک مسائل تو مولویوں کو بھی سب معلوم ہیں۔ان کے دل کیوں پتھر ہو گئے اور کیوں وہ اس بات کے نا اہل ہو گئے کہ قوم کی تربیت کر سکیں اس لئے کے دل کے معاملات اور ہیں دماغ کے اور ہیں۔محبت عشق وفا اور خلوص اور