اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 226

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۲۶ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء محبت میں ایک لطف کی بات یہ ہے کہ اس میں پھر اختیار کی بات نہیں رہتی۔جو چیز فرض ہے وہ ہے حسن کے ساتھ رابطہ اور حسن اور رابطے کے بغیر محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ایک شاعر کہتا ہے یہ ایسی آگ ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔غالب کا یہ شعر ہے کہ محبت عجیب پاگل چیز ہے کہ ہم کوشش کریں ہو جائے تو ہوتی نہیں اور جب ہو جائے تو مٹتی نہیں۔ایسی آگ لگ جاتی ہے جو بجھائی نہیں جاسکتی۔اس لئے بندہ کا اختیار نہیں ہے لیکن حسن کا اختیار ہے۔حسن فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کس سے محبت ہوگی اور چونکہ حسن خدا کا حسن ہے اس لئے خدا ہی فیصلہ کرے گا کہ کس وقت کتنا آپ پر جلوہ گر ہو۔اس کے لئے دعا ضروری ہے اور یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اے خدا! مجھے اپنا وہ حسین چہرہ دکھا۔چنانچہ حضرت موسی" چونکہ عارف باللہ تھے انہوں نے یہ دعا نہیں کی کہ اے خدا میرے دل کو محبت سے بھر دے انہوں نے یہ دعا کی کہ اے خدا مجھے اپنا چہرہ دکھا دے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ چہرہ دیکھا اور میں عاشق ہو گیا۔یہی مضمون مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد مصطفی امیہ کے حسن کے تعلق میں بیاں فرمایا۔جب آپ نے فرمایا: اگر خواہی دلیلے عاشقش باش بُرہان محمد تم دلیل پوچھ رہے ہو محمدؐ کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ تم اس کے عاشق ہو جاؤ۔محمد ہی اپنی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ وہ حسین ہے اور حسینوں کی صداقت کی دلیل نہیں مانگی جایا کرتی۔حسینوں کے اس جذبہ کی اور اس قوت کی دلیل نہیں مانگی جاتی جو انسان کو خود بخو د مغلوب کرلیا کرتا ہے۔حسن کو دیکھیں پھر آپ کا اختیار نہیں رہے گا۔پھر آپ چلے چلیں گے اس کے پیچھے اور یہ انسانی فطرت ہے۔ایسی گہری کشش خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں حسن کے ساتھ رکھ دی ہے کہ بندہ بے اختیار ہو جاتا ہے۔تو میں آپ کو یہ راز سمجھاتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ سے محبت ان معنوں میں مانگیں کہ اے خدا! ہمیں اپنا حسن دیکھا، اپنے حسن کے جلوے دکھا، ہمیں بے اختیار کر دے۔ہم ایسا تجھے دیکھیں کہ پاگل ہوجائیں۔ہمیں دنیا کی ہوش نہ رہے۔ہم تجھے چاہیں اور تیرے مقابل پر پھر کسی اور کو نہ چاہ سکیں۔یہ وہ دعا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دے گا اور جب تک آپ کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہ ہوں باہر کی دنیا میں پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کی جاسکتی ! نہیں پیدا کی جاسکتی نہیں پیدا کی جاسکتی۔ایسا قطعی اصول ہے جس کو دنیا میں کوئی طاقت بدل