اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 223
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات عطا کر دیا جو خرد مجھے کبھی عطا نہیں کرسکتی۔۲۲۳ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء پس محبت کا جنون ہے جو دنیا میں پاک تبدیلیاں پیدا کرے گا اور اس محبت کا سفر انفرادی طور پر ہر شخص کو کرنا ہوگا اور آج سب سے زیادہ اس محبت کے سفر کی احمدی خواتین کی ضرورت ہے۔احمدی بچیوں کوضرورت ہے۔کیونکہ انہوں نے کل کی مائیں بننا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ مردوں کو ضرورت نہیں۔مردوں کو لازماً ضرورت ہے مگر وہ ماؤں سے یہ فیض پائیں گے۔کیونکہ مردوں کی جنتیں ان کی ماؤں کے پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہیں اور جنت کی بہترین تعریف اللہ کی محبت ہے۔یہاں بعض لوگ بلکہ اکثر جنت کا لفظ سنتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ماں کے پاؤں کے نیچے سے سیدھا آپ جنت میں باغوں میں پہنچ جائیں گے حالانکہ اصل جنت کی تعریف خدا کی محبت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔یعنی دنیا تو دوسری جنتیں ڈھونڈھتی ہے ہمیں تو سوائے اس کے کوئی جنت دکھائی نہیں دیتی کہ اللہ کی محبت نصیب ہو جائے۔اس کا پیار عطا ہو اس کی رضا مل جائے اور اس کے نتیجہ میں ہمیں اعلیٰ لذات عطا ہوتی ہیں۔وہ ایسی لذتیں ہیں جن کا عام انسان تصور نہیں کر سکتا۔کیونکہ عام انسان ان لوگوں کو بعض دفعہ مشقتوں میں مبتلا دیکھتا ہے۔اکثر انبیاء کی زندگی ایسے دکھوں میں کٹتی ہے ایسی مصیبتوں میں کٹتی ہے، کچھ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دکھ ہیں جو بہت بڑے دکھ ہیں جس شخص پر جتنی ذمہ داری ڈالی جائے اور جتنا وہ خلوص سے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرے اتنی بڑی اس کی زندگی مشکل میں مبتلا ہو جاتی ہے۔کچھ دکھ ہیں جو غیر ان پر پھینکتے ہیں اور دشمنی اور نفرتوں کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ان حالات میں ان کا زندہ رہنا اور ایسی زندگی سے لذت پانا ایک نا قابل حل معمہ ہے جس کی دنیا کو سمجھ نہیں آیا کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا حل یوں پیش فرماتے ہیں: ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا ایک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا ( در شین صفحه : ۱۰) کہ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں۔غیروں نے یہ یہ ظلم کئے اور یہ یہ ظلم کئے ہم تو ان ظالموں کے نیچے پیسے گئے ہوں گے مگر فرمایا اے میرے آقا! اے میرے محبوب رب ! تیری پیاری نگاہیں ایک ایسی تیز تیغ کا حکم رکھتی ہیں جن سے سارا غیروں کا جھگڑا، اغیار کی سب مصیبتوں کا