اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 222
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۲۲ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء کوئی مثال دنیا میں نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محبت کی تعریف میں ایک کلام فرمایا ہے جو مجھے دنیا کے لٹریچر میں کہیں اور دکھائی نہیں دیا۔فرماتے ہیں : اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی اے محبت تو عجیب چیز ہے تو نے حیرت انگیز نشان ظاہر کئے ہیں۔زخم اور مرہم کو برابر کر دیا ہے۔یعنی خدا کی راہ میں اب مجھے زخم لگے تب بھی مرہم کا سا سرور ہے اور مرہم لگے اس میں بھی مرہم کا سا سرور ہے۔تو وہ محنت جو انسان کو دنیا میں انقلاب بر پا کرنے کے لئے چاہئے ، وہ محنت محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔کیونکہ محبت کے بغیر جو کام کیا جاتا ہے وہ ایک مصیبت ہوتی ہے۔ایک ماں کسی اور کے بچے کو سنبھالے تو اس کو کیسی مشکل پڑتی ہے یہاں تک کہ میں نے دیکھا ہے نانیاں بھی جب بچہ گندا ہوتو ماں کے اوپر پھینک دیتی ہیں۔کہتی ہیں تیار کر کے لاؤ تو ٹھیک ہے بڑا پیار کریں گے اس سے لیکن ذرا گندا ہوا ، بد بو آئی کہتی ہیں پکڑوا سے اٹھا کر لے جاؤ ہم تو اسے برداشت نہیں کر سکتے۔میری بیگم پاس بیٹھی ہوئی ہیں یہ بھی اسی طرح کرتی ہیں۔بیٹیاں بے چاری جنہوں نے آگے بچے پیدا کئے ہیں بڑے پیارے پیارے وہ ان کو تیار کرتی ہیں جب وہ سج کے خوبصورت لگتے ہیں اچھے لگتے تو نانیوں کی گود میں آجاتے ہیں اور نانوں کی گود میں آجاتے ہیں اور جب ذرا گندے ہوئے تو مائیں سنبھالیں۔کیوں ایسا ہوتا ہے اس لئے کہ ان کو ان سے زیادہ محبت ہے اور کچی محبت ہے۔ایک محبت ہے مزے اٹھانے کی محبت ایک محبت ہے ان مزوں کی خاطر تکلیف میں مبتلا ہونے کی محبت۔ان دونوں محبتوں میں فرق ہے۔پس جب تک خدا سے آپ کو ایسی محبت نہ ہو کہ اس کے نتیجہ میں زخم و مر ہم برابر نہ ہو جائیں اس وقت تک آپ دنیا کا کوئی علاج نہیں کر سکتے۔ورنہ یہ سردردی ہوگی ایک بکھیڑا ہوگا ہر وقت کی مصیبت ہوگی لیکن پیار ہو تو یہ سب چیزیں، سب راہیں آسان ہو جایا کرتی ہیں۔فرماتے ہیں: تانه دیوانه شدم ، ہوش ناید بسرم اے جنونِ گرد تو گردم که چه احساں کر دی اے محبت جب تک تو نے مجھے پاگل نہیں بنا دیا مجھے ہوش نہیں آئی۔مجھے حقائق کا علم نہیں ہوا مجھے معرفت نصیب نہیں ہوئی۔اے جنون میں تیرے گرد مجنوں کی طرح گھوموں کیوں کہ تم نے مجھے وہ